Wednesday, 10 June 2026

دین لفاظی کا نام نہیں

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 


دین لفاظی کا نام نہیں۔۔۔ 

نہ ہی جذباتیت کا نام ہے۔۔۔

 نہ ہی جھوٹ و الزام تراشی کا نام ہے۔۔۔

دین کوئی کھیل بھی نہیں۔۔۔ کہ ہر بندہ / بندی منہ اٹھا کے کھیلنا شروع کردے۔۔ 

دین ادب سکھاتا ہے۔۔۔ ائمہ کا ۔۔۔ اپنے سے بڑوں کا۔۔۔ اہل علم کا۔۔۔ 

اور جو بندہ ائمہ پر سوال جواب شروع کردے ۔۔۔ اس کی کیا وقعت ہونی چاہیے بھلا ؟ 

دین ٹوٹکوں کا نام بھی نہیں کہ کوئی بھی آئے اور چند ٹوٹکے پکڑ کر دوسروں کو گمراہ کرنا شروع کردے۔۔۔


قربان جائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر 🤍

فداه نفسي و أمي وأبي وأهلي ومالي...✨

جنہوں نے وہ دین چھوڑا کہ جس کی راتیں بھی دن کی طرح روشن ہیں۔۔۔ 

اور کیا حکم ہوا تھا بھلا مشرکین کے بارے میں۔۔۔ لكم دينكم ولي دين

متاثر ہونا چھوڑ دیں۔۔۔ پروپیگنڈا کرنے والوں سے ۔۔۔ لفاظی کرنے والوں سے۔۔۔ جھوٹ گھڑنے والوں سے ۔۔۔ دلیل سے بھاگنے والوں سے ۔۔۔ یہ آپ کا وقت و عقیدہ دونوں ضائع کریں گے اور آخر پہ کچھ ہاتھ نہیں آنا۔۔۔ بچ جائیے گمراہی کے اماموں سے ۔۔۔ واللہ الموفق!


قرآن و سنت کی تعلیم سے کسے تکلیف پہنچتی ہے؟ 

وہ جن کو قرآن و سنت سے بیر ہو۔۔۔ اگر آپ کے عمل میں سیدنا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا اثر نہیں ہے ۔۔۔ آپ کے عقائد پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے عقیدہ کے مخالف ہیں۔۔۔ تو چاہے محبت و عقیدت کا کتنا ہی ڈھنڈورا پیٹ لیں۔۔۔ بے سود و بے فائدہ ہے ۔۔۔ ہم جیسے حقیر امتی بھی لوگوں کی صرف لفظی محبت کے دعوؤں کو اپنی توہین سمجھتے ہیں ۔۔۔ تو قربان جائیں پیارے حبیب جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ۔۔۔ ان کی محبت کی صرف لفاظی کرکے اور عمل ان کی لائی شریعت کے مخالف کرکے آپ سمجھتے ہیں آپ بہت بڑے محب رسول بن گئے ہیں ؟ یہ خود فریبی نہیں تو کیا ہے؟


توحید کی دعوت سے کس کا دل تنگ ہوتا ہے ؟ 

وہ جس کا دل شرک کی نجاست سے آلودہ ہو۔۔۔

توحید دین کی اساس ہے ۔۔۔ تمام انبیاء کی دعوت کا مرکز و محور ہے ۔۔۔ اس میں ملاوٹ ہوگئی نا تو نجات ممکن نہیں ۔۔۔ 

رات سے یہ سب باتیں سٹیٹس پر لگا رہی ہوں ۔۔۔ بے مقصد نہیں بلکہ اس لیے کہ مسلمانوں کا روپ دھارے ، خود کو اہل سنت کہلوانے والے کچھ لوگ آپ کے عقیدہ توحید سے کھلواڑ کرنے آئیں گے ۔۔۔ کسی شخصیت ہر تنقید کے راستے تھے۔۔۔ کسی اہل خیر پر الزام تراشی کے راستے سے۔۔۔ مقصد آپ کی توجہ پانا ہوگا۔۔۔ اور جب آپ متوجہ ہوگئے تو کہانی ختم۔۔۔ پس بچ جائیے۔۔۔ ہر بندے کی بات سننے لائق نہیں ہوتی۔۔۔


اب آجاتے ہیں اختلاف کے بنیادی قواعد کی طرف۔۔۔ ہر بات کا کوئی طریقہ اور سلیقہ ہوتا ہے ۔۔۔ یہ نہیں کہ ہم سر جھاڑ منہ پہاڑ ۔۔۔ اٹھ کے کچھ بھی کہہ دیں کسی کے بارے میں ۔۔۔ کوئی بھی الزام تراشی کردیں۔۔۔ کسی کی کردارکشی کرنا شروع کردیں۔۔۔ میں نے کئی ایک لوگوں کو دیکھا ہے غلط عقائد کی تشہیر کرتے ہوئے لیکن کبھی کسی کا نام نہیں لیا ہاں اشارے کنایے سے آپ سب پہ بات واضح کردی کہ یہ بات بھی غلط ، ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ لیکن کبھی کسی کا نام نہیں لیا ۔۔۔ کیوں ؟ کیونکہ یہ ہم جیسے عام طلاب العلم کا کام نہیں ۔۔۔ فتوے لگانا ، ہمارا کام نہیں ۔۔۔ یہ بڑے علماء کا کام ہے۔۔۔ کسی کہ تکفیر کرنا ، کسی کو بدعتی قرار دینا۔۔۔ ہمارا کام نہیں ۔۔۔ اور جو کام جس کا ہو اسی کو جچتا ہے۔۔۔


پتہ ہے مشرکین مکہ سیدنا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے انکار کے باوجود آپ کو صادق اور امین کہتے تھے۔۔۔ وہ امانت و دیانت اس درجہ کی تھی کہ دشمنوں کو بھی انکار نہیں تھا۔۔۔

اور امانت صرف روپے پیسے و اشیاء کی نہیں ہوتی۔۔۔ بلکہ باتوں کی بھی ہوتی ہے ۔۔۔ اور ڈیجیٹل دور میں ہماری یہ جو چیٹنگ ہے یہ بھی امانت کے زمرے میں آتا ہے۔۔۔ اور کسی کی اجازت کے بغیر اس کی چیٹ کے سکرین شاٹس لینا ، پھر ان پر پروپیگنڈا کرنا ۔۔۔ پھر حقائق کو توڑ مڑوڑ کر اپنے انداز میں بیان کرنا ۔۔۔ دئیے گئے حقیقی دلائل پر غور و فکر کی بجائے خود بھی ہٹ دھرمی اختیار کرنا پھر دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرنا ۔۔۔ یہ خیانت نہیں تو اور کیا ہے ؟ یہ ایک انسان کی ذہنیت کی کس قدر پستی کا اظہار ہے؟


اختلاف کے لیے کسی کی چیٹ کے سکرین شاٹس لگانا ضروری نہیں ہے۔۔۔ اب جس بندے کو اختلاف کے یہ بنیادی اصول ہی نہیں معلوم اس کی بات کیونکر معتبر ہوسکتی ہے ؟ وہ بس اپنی عجیب و غریب منطق کو ثابت کرنے کے لیے کسی پر بھی کیچڑ اچھال سکتا ہے ۔۔۔ خواہ وہ ائمہ ہوں یا ہم جیسے احقر۔۔۔ 

بات یہ ہے کہ الحمدللہ ہماری شریعت محفوظ ہے ۔۔۔ نسل در نسل سینہ بہ سینہ ہمارا دین ہمارا عقیدہ ہم تک پہنچا ہے اور بذریعہ اسناد پہنچا ہے۔۔۔ ایک ایک حرف معلوم ہے کہ کس نے کیا کہا اور کس سے سنا اور کس سے بیان کیا۔۔۔ یہ کوئی گری پڑی چیز نہیں کہ کوئی بھی آئے ، کچھ بھی کہہ دے اور ہمیں بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتا چلا جائے۔۔۔ سبحان اللہ! 


اللہ تعالیٰ فہم عطا فرمائے ۔۔۔ آمین! 


* آمنہ چاہل

No comments:

Post a Comment

بڑھتے ہوئے جنسی جرائم: اسباب، احتیاط اور ہماری ذمہ داریاں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  بڑھتے ہوئے جنسی جرائم: اسباب، احتیاط اور ہماری ذمہ داریاں جب بھی کسی معصوم بچے یا بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر سا...