Wednesday, 24 June 2026

بڑھتے ہوئے جنسی جرائم: اسباب، احتیاط اور ہماری ذمہ داریاں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

بڑھتے ہوئے جنسی جرائم: اسباب، احتیاط اور ہماری ذمہ داریاں


جب بھی کسی معصوم بچے یا بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر سامنے آتی ہے تو پورا معاشرہ غم و غصے میں ڈوب جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر مذمت کے پیغامات، مجرموں کے لیے سخت سزاؤں کے مطالبات اور چند روز تک جاری رہنے والی بحثیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف مجرم کو سزا دینا ہی کافی ہے؟ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے ان اسباب پر غور کیا ہے جو ایسے جرائم کو جنم دیتے ہیں؟

اگر ہم ایک محفوظ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں صرف نتائج پر نہیں بلکہ ان وجوہات پر بھی توجہ دینی ہوگی جو ان المناک واقعات کے پیچھے کارفرما ہیں۔ اسلام ہمیں نہ صرف جرم کی مذمت سکھاتا ہے بلکہ ان راستوں کو بند کرنے کی تعلیم بھی دیتا ہے جو جرائم تک لے جاتے ہیں۔

جنسی جرائم کسی ایک فرد، خاندان یا ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا المیہ ہیں۔ ان کا حل صرف مجرموں کو سزا دینے میں نہیں بلکہ ان اسباب کو ختم کرنے میں بھی ہے جو ایسے جرائم کو جنم دیتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اس مسئلے کا جائزہ جذبات کے بجائے سنجیدگی، دیانت داری اور اصلاحِ معاشرہ کے جذبے کے ساتھ لیں۔

جنسی جرائم کیوں بڑھ رہے ہیں؟

اس مسئلے کی سب سے بنیادی وجہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور آخرت میں جواب دہی کے احساس کا کمزور ہو جانا ہے۔ جب انسان یہ بھول جاتا ہے کہ ایک دن اسے اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے تو وہ اپنی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے اور ظلم کی انتہاؤں تک پہنچ سکتا ہے۔

اسی طرح فحاشی اور بے حیائی کا فروغ بھی ایک بڑا سبب ہے۔ آج موبائل فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے فحش مواد تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے۔ عریانی، فحش ویڈیوز اور جنسی خواہشات کو بھڑکانے والا مواد انسان کے دل و دماغ پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور گناہوں کے راستے ہموار کرتا ہے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے غفلت بھی ایک اہم سبب ہے۔ جب معاشرہ برائی کو برائی سمجھنا چھوڑ دے، گناہوں پر خاموشی اختیار کر لی جائے اور اصلاح کا جذبہ کمزور پڑ جائے تو جرائم پنپنے لگتے ہیں۔

بعض اوقات والدین کی غفلت، بچوں پر نظر نہ رکھنا، ان کے دوستوں، ماحول اور آن لائن سرگرمیوں سے بے خبری بھی ایسے جرائم کے لیے مواقع پیدا کر دیتی ہے۔ اسی طرح میڈیا، تفریحی کلچر  اور سوشل میڈیا کے بعض منفی رجحانات بھی اخلاقی حدود کو کمزور کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

خاندانوں کے اندر ہونے والے جرائم

یہ ایک نہایت افسوسناک حقیقت ہے کہ بچوں کے ساتھ ہونے والی بہت سی زیادتیاں اجنبی افراد کے بجائے قریبی جاننے والوں یا بعض اوقات خاندان کے افراد کی طرف سے ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف "اجنبیوں سے بچاؤ" کافی نہیں بلکہ بچوں کی عمومی حفاظت اور نگرانی بھی ضروری ہے۔

بعض والدین اعتماد یا مجبوری کی بنا پر بچوں کو رشتہ داروں، جاننے والوں یا گھریلو ملازمین کے ساتھ تنہا چھوڑ دیتے ہیں، حالانکہ اکثر واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ احتیاط ہر حال میں ضروری ہے۔

اسلام نے مرد و عورت کی تنہائی (خلوۃ) سے منع فرمایا ہے کیونکہ شیطان انسان کو بہکانے کے لیے ایسے مواقع سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ شریعت کے یہ احکامات بدگمانی پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ فتنوں کے دروازے بند کرنے کے لیے ہیں۔

شریعت کی حفاظتی تعلیمات

اسلام صرف جرائم کی سزا بیان نہیں کرتا بلکہ ان کے اسباب کو بھی ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اسی لیے اسلام نے نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا، حیا اور پردے کی تعلیم دی، بے حیائی سے بچنے کی تلقین کی اور غیر ضروری اختلاط اور تنہائی سے منع فرمایا۔ یہ تمام احکامات انسان کی عزت، عفت اور معاشرے کی پاکیزگی کے تحفظ کے لیے ہیں۔

اسلام کا مزاج یہ ہے کہ انسان کو ایسے مواقع سے بھی بچایا جائے جو بعد میں گناہ یا فساد کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی لیے شریعت نے سدِّ ذرائع (برائی تک پہنچانے والے راستوں کو بند کرنے) کے اصول کو اختیار کیا ہے۔

خواتین کے سفر کے بارے میں بھی شریعت نے محرم کی موجودگی کی ہدایت دی ہے۔ اس حکم میں عورت کی حفاظت، عزت اور سہولت کے متعدد پہلو پوشیدہ ہیں۔ اگر کسی ضرورت کے تحت گھر سے نکلنا یا سفر کرنا پڑے تو پردے، احتیاط، محفوظ ذرائع اور مناسب حفاظتی تدابیر کا اہتمام کرنا چاہیے۔

ہم اپنے بچوں کی حفاظت کیسے کریں؟

➊ بچوں کے لیے واضح حدود مقرر کریں۔

➋ بچوں کو بلا ضرورت گھر سے باہر یا کسی کے گھر اکیلا نہ بھیجیں۔

➌ بچوں کو گھر میں کسی فرد کے ساتھ تنہا نہ چھوڑیں، خواہ وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔

➍ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کی تعلیم دیں۔

➎ بچوں کو یہ اعتماد دیں کہ اگر کوئی انہیں نامناسب طریقے سے چھوئے، ڈرائے یا دھمکائے تو وہ فوراً والدین کو آگاہ کریں۔

➏ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں، موبائل استعمال اور انٹرنیٹ تک رسائی پر مناسب نگرانی رکھیں۔

➐ بچوں کو نماز، اذکار، حیا، شرم و حیا کی حدود اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی تربیت دیں۔

➑ بچوں کی باتوں کو سنجیدگی سے سنیں اور ان کے خوف یا شکایات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔

بیٹوں کی تربیت بھی ضروری ہے

جنسی جرائم پر گفتگو کرتے وقت اکثر ساری توجہ بیٹیوں کی حفاظت اور احتیاطی تدابیر پر مرکوز ہو جاتی ہے، جبکہ ایک محفوظ معاشرے کی تعمیر کے لیے بیٹوں کی صحیح تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

اسلام نے حفاظت اور پاکدامنی کی ذمہ داری صرف عورتوں پر نہیں ڈالی بلکہ مردوں کو بھی نگاہوں کی حفاظت، تقویٰ، عفت اور اپنے نفس کی اصلاح کا حکم دیا ہے۔

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بیٹوں کو بچپن ہی سے حیا، احترامِ انسانیت، خواتین کے احترام، حدودِ شرعیہ کی پابندی اور اللہ تعالیٰ کے خوف کی تعلیم دیں۔ انہیں یہ سمجھایا جائے کہ طاقت، عمر یا جنس کسی کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ کسی دوسرے انسان کی عزت، جسم یا حقوق پر تجاوز کرے۔

ہم اپنی بیٹیوں کو محفوظ ماحول دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بیٹوں کی تربیت پر بھی بھرپور توجہ دینی ہوگی۔ ایک صالح معاشرہ صرف احتیاطی تدابیر سے نہیں بلکہ ایسے افراد کی تربیت سے وجود میں آتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے خوف اور اخلاقی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ زندگی گزاریں۔

خواتین کے لیے چند اہم احتیاطیں

➊ پردے اور حیا کے اسلامی احکام کا اہتمام کریں۔

➋ غیر ضروری تنہائی اور مشکوک حالات سے بچیں۔

➌ حتی المقدور سفر اور آمدورفت میں شرعی ہدایات اور حفاظتی اصولوں کو ملحوظ رکھیں۔

➍ اپنے اہلِ خانہ کو اپنی آمدورفت اور مقام کے بارے میں آگاہ رکھیں۔

➎ اگر کسی شخص کے رویے میں نامناسب دلچسپی، چھیڑ چھاڑ یا غیر مناسب طرزِ عمل محسوس ہو تو اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔

➏ گھروں میں بھی حدود اور احتیاط کا خیال رکھیں، کیونکہ شیطان اکثر تنہائی اور غفلت کے مواقع سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

متاثرہ افراد کے ساتھ ہمارا رویہ

یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ کسی بھی جنسی جرم کی ذمہ داری مجرم پر عائد ہوتی ہے۔ احتیاطی تدابیر کا ذکر جرم کا جواز پیش کرنے یا متاثرہ فرد کو موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے نہیں ہوتا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات جرم کرنے والے کے بجائے متاثرہ فرد ہی سوالات، طعنوں اور الزام تراشی کا نشانہ بن جاتا ہے۔ حالانکہ یہ رویہ خود ایک بڑی ناانصافی ہے۔

جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے افراد کو الزام دینا، ان کی کردار کشی کرنا یا انہیں خاموش رہنے پر مجبور کرنا مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ ایسے افراد کو ہماری ہمدردی، مدد، تحفظ اور انصاف کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں متاثرہ شخص بلا خوف اپنی بات بیان کر سکے اور اسے انصاف حاصل ہو سکے۔

شیطان کی چالیں: گناہ ایک دم نہیں آتا

بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کہ آخر ایک انسان اتنے بڑے جرم تک کیسے پہنچ جاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ شیطان اکثر انسان کو ایک ہی دن میں بڑے گناہ تک نہیں پہنچاتا بلکہ اسے آہستہ آہستہ برائی کی طرف لے جاتا ہے۔

علماء بنی اسرائیل کے ایک عابد کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ وہ ایک عبادت گزار شخص تھا۔ ایک مرتبہ دو بھائی اپنی بہن کو اس کی نگرانی میں چھوڑ کر سفر پر چلے گئے۔ ابتدا میں وہ نیک نیتی سے اس کی دیکھ بھال کرتا رہا، لیکن شیطان نے اسے قدم بہ قدم بہکانا شروع کیا۔

پہلے شیطان نے اسے ضرورت کے تحت قریب جانے پر آمادہ کیا، پھر گفتگو کا دروازہ کھولا، پھر تنہائی کو معمول بنا دیا، یہاں تک کہ وہ اس عورت کے ساتھ گناہ میں مبتلا ہو گیا۔ جب عورت حاملہ ہو گئی تو رسوائی کے خوف سے اس نے عورت اور بچے دونوں کو قتل کر دیا۔

جب بھائی واپس آئے تو حقیقت کھل گئی اور اسے سزا کے لیے پکڑ لیا گیا۔ اس موقع پر شیطان اس کے سامنے آیا اور کہا: "میں ہی ہوں جس نے تمہیں اس انجام تک پہنچایا ہے، اگر تم میری بات مان لو تو میں تمہیں بچا سکتا ہوں۔" روایات میں آتا ہے کہ بالآخر شیطان نے اسے کفر تک پہنچا دیا اور یوں وہ دنیا و آخرت دونوں میں خسارے کا شکار ہوا۔

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بڑے جرائم اکثر ایک ہی دن میں وجود میں نہیں آتے۔ ان کی ابتدا چھوٹی غفلتوں، معمولی سمجھوتوں اور ان حدود کو توڑنے سے ہوتی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہماری حفاظت کے لیے مقرر فرمایا ہے۔

شیطان انسان کو ابتدا ہی میں زنا، قتل یا کفر کی دعوت نہیں دیتا، بلکہ وہ اسے ایک ایک قدم آگے بڑھاتا ہے، یہاں تک کہ انسان ایسی جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں سے واپسی مشکل محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام صرف زنا اور جنسی جرائم سے منع نہیں کرتا بلکہ ان تمام راستوں کو بھی بند کرتا ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ ان گناہوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے:

"اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی اور بہت برا راستہ ہے۔"

غور کیجیے! قرآن نے صرف زنا سے منع نہیں فرمایا بلکہ "زنا کے قریب جانے" سے بھی منع فرمایا ہے، کیونکہ اسلام جرم کے انجام سے پہلے اس کے اسباب کا سدِّ باب کرتا ہے۔ چنانچہ مسلمان کو بدنظری، فحش تصاویر اور ویڈیوز دیکھنے، نامحرموں سے بلا ضرورت اختلاط، غیر ضروری گفتگو، تنہائی (خلوۃ)، بے حیائی پر مبنی سوشل میڈیا مواد، ناجائز تعلقات اور ہر اس راستے سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے جو دل میں فتنہ پیدا کرے یا گناہ کی طرف لے جائے۔

اکثر بڑے گناہوں کی ابتدا ایک نظر، ایک پیغام، ایک غیر ضروری گفتگو یا ایک معمولی غفلت سے ہوتی ہے۔ شیطان انہی چھوٹے دروازوں سے داخل ہو کر انسان کو آہستہ آہستہ بڑی نافرمانیوں تک پہنچاتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے صرف گناہ کے انجام سے نہیں بلکہ اس کے مقدمات اور اسباب سے بھی بچنے کی تعلیم دی ہے۔

ہم سب کی مشترکہ ذمہ داریاں

والدین کی ذمہ داری

اولاد کی دینی، اخلاقی اور حفاظتی تربیت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔

اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری

طلبہ میں حیا، احترامِ انسانیت اور ذاتی حفاظت کے شعور کو فروغ دیں۔

علماء اور دینی رہنماؤں کی ذمہ داری

حیا، عفت، تقویٰ اور آخرت کی جواب دہی کے موضوعات کو اجاگر کریں۔

میڈیا اور سوشل میڈیا کی ذمہ داری

فحاشی اور اخلاق باختگی کو فروغ دینے کے بجائے مثبت اقدار اور کردار سازی کو فروغ دیں۔

ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری

مؤثر قانون سازی، فوری انصاف اور متاثرین کی معاونت کو یقینی بنائیں۔

ہر مسلمان کی ذمہ داری

اپنی استطاعت کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے اور اپنے گھر میں دینی و اخلاقی ماحول قائم کرے۔

پس ۔۔۔

بڑھتے ہوئے جنسی جرائم ہمارے معاشرے کے اخلاقی، تربیتی اور روحانی بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کا حل صرف سخت سزاؤں، احتجاجی نعروں یا وقتی جذباتی ردِ عمل میں نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر اصلاحی کوشش میں ہے۔

جب گھروں میں تربیت ہوگی، معاشرے میں حیا کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا، فحاشی کے راستوں کو محدود کیا جائے گا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو زندہ کیا جائے گا اور دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور آخرت کی جواب دہی کا احساس پیدا ہوگا تو ان شاء اللہ ایسے جرائم میں کمی آئے گی۔

معاشرے کی اصلاح صرف عدالتوں، قوانین اور سزاؤں سے نہیں ہوتی بلکہ دلوں کی اصلاح، گھروں کی تربیت اور کردار کی تعمیر سے ہوتی ہے۔ اگر ہم صرف مجرم کو سزا دینے پر اکتفا کریں گے تو مسئلہ باقی رہے گا، لیکن اگر ہم ان اسباب کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے جو ایسے جرائم کو جنم دیتے ہیں تو ہم ایک زیادہ محفوظ، پاکیزہ اور باحیا معاشرے کی طرف بڑھ سکیں گے۔ ان شاءاللہ۔۔۔

واللہ المستعان۔۔۔


اللہ تعالیٰ ہماری نسلوں کی حفاظت فرمائے، ہمارے گھروں کو امن و عافیت کا گہوارہ بنائے، مظلوموں کی مدد فرمائے اور ہمیں اپنی ذمہ داریاں احسن انداز سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

والسلام 

آمنہ چاہل 

(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach) 

Friday, 19 June 2026

کیا بیٹیاں واقعی ساری زندگی لیتی رہتی ہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

یا بیٹیاں واقعی ساری زندگی لیتی رہتی ہیں؟

کل ایک گفتگو کے دوران امی سے بات ہو رہی تھی کہ والد یا بھائیوں پر بیٹی کے جہیز کا بوجھ شریعت نے نہیں رکھا تو یہ ہونا بھی نہیں چاہیے ۔ خیر، ایک طویل بحث کے اختتام پر امی نے کہا:

"جہیز نہ بھی لیا جائے تو کیا ہوا، بیٹیاں تو ساری زندگی لیتی ہی رہتی ہیں۔ مختلف مواقع پر کچھ نہ کچھ تو دیا ہی جاتا رہتا ہے۔"

لیکن اس جملے سے بھی مجھے اتفاق نہ ہو سکا۔

میں سوچنے لگی کہ آخر کیوں بیٹیاں ساری زندگی لینے والی ہی سمجھی جائیں؟

شادی سے پہلے تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ والد اور بھائیوں کی کفالت میں تھیں، لہٰذا وہ اپنی استطاعت کے مطابق ان پر خرچ کرتے رہے۔ لیکن نکاح کے بعد جب شریعت نے عورت کی کفالت کی ذمہ داری شوہر کے سپرد کر دی، تو پھر یہ تصور کہ بیٹی ہمیشہ لینے والی ہی رہے، میری سمجھ سے بالاتر ہے۔

ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ شادی سے پہلے ایک لڑکی کی ذمہ داری تھی، اور شادی کے بعد بسا اوقات اس کے بچوں تک کی ضروریات اور مختلف مواقع پر ہونے والے اخراجات بھی بھائیوں کے ذمے سمجھے جانے لگتے ہیں۔

ایسی بہت سی مثالیں دیکھی ہیں کہ ایک شخص بڑی مشکل سے اپنے بیوی بچوں کی ضروریات پوری کر رہا ہوتا ہے، لیکن معاشرتی رسوم اور توقعات کے باعث بہنوں اور ان کے خاندانوں کے لیے مہنگے کپڑے، زیورات اور تحائف دینا بھی گویا اس پر لازم سمجھا جاتا ہے۔ یوں وہ حق، جو اس کی اپنی بیوی اور بچوں کا تھا، معاشرے کی ان غیر ضروری توقعات کی نذر ہو جاتا ہے۔

حالانکہ شریعت نے ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی۔ یہ بوجھ دراصل رسوم و رواج اور اندھی تقلید نے پیدا کیا ہے۔

البتہ اس سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ اگر کسی بہن کو واقعی ضرورت پیش آجائے، یا وہ تنگ دستی، بیوگی، بیماری یا کسی اور مجبوری کا شکار ہو، تو بھائی اس سے بے نیاز ہو جائیں۔ ایسے مواقع پر اس کی مدد کرنا صلہ رحمی، احسان اور ایک عظیم نیکی ہے، بلکہ بعض حالات میں ضرورت کے مطابق یہ ذمہ داری کا درجہ بھی اختیار کر سکتی ہے۔ گفتگو ان غیر ضروری معاشرتی توقعات اور رسوم کے بارے میں ہے جنہیں شریعت نے لازم قرار نہیں دیا، مگر لوگوں نے انہیں فرض کا درجہ دے رکھا ہے۔

رشتوں میں محبت، تعاون اور تحائف اپنی جگہ ایک خوبصورت چیز ہیں۔ بھائی اپنی بہنوں سے محبت کریں، ان کی مدد کریں اور خوشیوں میں شریک ہوں، اس میں کوئی قباحت نہیں۔ لیکن محبت کو فرض اور احسان کو لازم سمجھ لینا وہ چیز ہے جو بوجھ اور ناانصافی کو جنم دیتی ہے۔

میرے خیال میں بیٹیوں کو وقار، خودداری اور قناعت کی تعلیم دی جانی چاہیے، تاکہ وہ محبت کو حق اور تحفے کو فرض سمجھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے امید وابستہ رکھنا سیکھیں۔ اسی طرح بیٹوں کو بھی یہ سکھایا جانا چاہیے کہ وہ محبت اور صلہ رحمی ضرور کریں، لیکن ایسی معاشرتی توقعات کے بوجھ تلے نہ دبیں جن کی شریعت نے ان پر ذمہ داری نہیں رکھی۔

محبت جب اپنی خوشی سے ہو تو باعثِ برکت بنتی ہے، لیکن جب اسے رسم اور معاشرتی دباؤ کی صورت دے دی جائے تو وہ بوجھ بن جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فہم و عمل کی توفیق سے نوازے۔ آمین!

وبالله تعالى التوفيق

والسلام 

آمنہ چاہل 


Tuesday, 16 June 2026

میں آزاد ہوں

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 




آج آزادی کے نام پر بہت سے نعرے بلند کیے جاتے ہیں۔۔۔

کسی کے نزدیک آزادی ہر حد کو توڑ دینے کا نام ہے۔۔۔ 

تو  کسی کے نزدیک خواہشات کی بے لگام پیروی کا۔۔۔ 

اور کسی کے نزدیک ہر بندھن سے بے نیاز ہو جانے کا۔۔۔

مگر میں نے آزادی کو ایک اور صورت میں پہچانا ہے۔۔۔

میں آزاد ہوں۔۔۔

میرا دین مجھے ہر اس زنجیر سے آزاد کرتا ہے جو روح کو باندھ لے۔۔۔ 

ہر اس خواہش سے جو انسان کو انسان کا غلام بنا دے۔۔۔

 اور ہر اس تعلق سے جو مجھے میرے رب سے دور کر دے۔۔۔

میں فخر و غرور کے بوجھ سے آزاد ہوں۔۔۔

 تکبر کی پستیوں سے آزاد ہوں۔۔۔ 

 غیبت کے اندھیروں اور چغلی کی آگ سے آزاد ہوں۔۔۔

 اور ہر اس برائی سے آزاد ہوں جو دل کی پاکیزگی کو چھین لیتی ہے۔۔۔

میں فکرِ معاش کے اندھے خوف سے آزاد ہوں۔۔۔ 

کیونکہ میرا یقین اس رب پر ہے جس کے خزانوں میں کبھی کمی نہیں آتی۔۔۔

 میں لوگوں کی رضا کی اسیری سے آزاد ہوں۔۔

 کیونکہ میری پیشانی صرف ایک رب کے حضور جھکتی ہے۔۔۔

میرے دین نے مجھے عزت دی ہے۔۔۔

اس نے مجھے بہن بنایا تو میری کفالت کو جنت کا راستہ قرار دیا۔۔۔ 

بیٹی بنایا تو میرے وجود کو رحمت کہا۔۔۔ 

ماں بنایا تو میرے قدموں تلے جنت رکھ دی۔۔۔ 

اور بیوی بنایا تو مجھے سکون و مودّت کا ذریعہ ٹھہرایا اور میرے ساتھ حسنِ سلوک کو جنت کی بشارت بنا دیا۔

میرے رشتوں کو صرف نام نہیں دیے گئے۔۔۔

 بلکہ ان کے ساتھ محبت، احترام اور تقدس بھی وابستہ کیا گیا۔۔۔ 

بہن، بیٹی، ماں، بیوی، خالہ اور پھپھو ۔۔۔  ہر نسبت میں میرے لیے عزت رکھی گئی۔

وہ زمانے بھی گزرے ہیں جب بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔۔۔

 مگر میرے دین نے مجھے زندگی دی۔۔۔

 میرے وجود کو ذلت سے نکالا۔۔۔ 

میری حرمت کو محفوظ کیا۔۔۔ 

میرے حقوق کو قائم کیا۔۔۔

 اور میرے لیے عزت کی حدیں مقرر کیں۔۔۔

اسی لیے میری آزادی بے راہ روی میں نہیں۔۔۔

میری آزادی اپنے رب کی عبادت میں ہے۔۔۔

میری آزادی خواہشات کی غلامی میں نہیں۔۔۔

 بلکہ میرے نبی محمد ﷺ کی اطاعت میں ہے۔۔۔

دنیا جسے پابندی سمجھتی ہے، میں اسے رحمت سمجھتی ہوں۔۔۔

دنیا جسے Limitation کہتی ہے، میں اسے عزت کا حصار جانتی ہوں۔۔۔ 

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ آزادی کیا ہے، تو میں دنیا کے نعروں سے نہیں، اپنے ایمان سے جواب دوں گی۔۔۔

آزاد وہ نہیں جو ہر خواہش کے پیچھے بھاگتا رہے۔۔۔

آزاد وہ نہیں جو لوگوں کی تعریف، ان کی رضا اور ان کی نگاہوں کا اسیر ہو۔۔۔

آزاد تو وہ ہے جو ایک اللہ کا ہو جائے، اور پھر کسی اور کا نہ رہے۔۔۔

 مگر اتنا جتنا اللہ تعالیٰ چاہے۔۔۔ 

کہ لوگوں کے ساتھ معاملات و تعلقات بھی اس رب العالمین کی رضا کے لیے ہوں۔۔۔ 

پس۔۔۔

میں آزاد ہوں۔۔۔

کیونکہ میرا رب میرا مالک ہے۔۔۔

 اور جو اللہ تعالیٰ کی بندگی میں آ جائے، وہ کسی اور کی غلامی میں نہیں رہتا۔۔۔

یہی میری پہچان ہے۔۔۔

یہی میری شان ہے۔۔۔

اور یہی میری آزادی  ہے۔۔۔

الحمدللہ 

والسلام 

آمنہ چاہل 

Life Skills Trainer, Islamic Life Coach 

Wednesday, 10 June 2026

ہم ذمہ دار ہیں | (ڈیجیٹل دور، ہم اور ہمارے بچے)

 بسم الله الرحمن الرحيم 

وہ خوبصورت دن۔۔۔

بچپن میں ہمارے والدین اور دادا دادی کے پاس ہماری تربیت کے لیے خوب وقت ہوتا تھا، اور ہمارے پاس بھی انہیں سننے، سمجھنے اور ان کی باتوں پر عمل کرنے کا۔۔۔ الحمدلله 

مجھے یاد ہے، دوپہر کے وقت ہم دادی جان کے اردگرد جمع ہوجایا کرتے تھے اور وہ ہمیں مزے مزے کی کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔ یہ کہانیاں نہ صرف ہمیں اپنے کلچر اور روایات سے متعارف کرواتیں بلکہ ان اقدار کو ہمارے ذہنوں میں راسخ بھی کرتیں۔

رات کو دادا ابو کے گرد محفل سجتی۔ وہ ہمیں اخلاقی قصے، اسلاف کی بہادری کے واقعات اور اپنی زندگی کے دلچسپ تجربات سنایا کرتے۔ ہم بڑے شوق سے فرمائش کرتے کہ ہمیں پاکستان ہجرت کی داستان سنائیں، اور جب وہ سناتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے ہم بھی ان مشقتوں بھرے سفر میں ان کے ساتھ شامل ہوں۔ انہی داستانوں نے ہمارے دلوں میں وطنِ عزیز کی محبت راسخ کی اور اس عظیم نعمت پر رب العزت کا شکر کرنا سکھایا۔

پھر امی جان بھی تو قاعدہ لے کر ہمیں حروف اور الفاظ کی پہچان کروایا کرتی تھیں۔ ہماری لکھائی کو خوبصورت بنانے کے لیے نہ جانے کتنی تختیاں لکھوایا کرتیں۔ ہم بھی شوق شوق میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے، تختی لکھتے، اسے دھوتے اور پھر نئی تختی لکھنے بیٹھ جاتے۔ رفتہ رفتہ یہ ہماری پسندیدہ مشغولیت بن چکی تھی۔

صبح فجر کے بعد اور شام میں عصر کے بعد قاعدہ یا قرآن پڑھنے جانا کتنا خوبصورت لگتا تھا۔ کوشش ہوتی کہ ہم باقی بچوں سے پہلے پہنچ جائیں، صفیں بچھا لیں اور سب کے آنے سے پہلے اپنا سبق بھی تیار کرلیں۔

اور پھر مختلف دلچسپ کھیل بھی تو ہوتے تھے۔ یوں کہیے کہ سارا دن جسمانی طور پر متحرک رہتے اور ذہنی نشوونما کے لیے بھی مسلسل غذا ملتی رہتی۔

وقت بدل گیا یا ہم ۔۔۔؟

آج سوچتی ہوں کہ جدید ڈیجیٹل دور میں کہیں نہ کہیں بچوں کا بچپن ہماری نظروں کے سامنے بدلتا جا رہا ہے۔ اب نہ والدین کے پاس پہلے جیسا وقت ہے، نہ دادا دادی کے پاس اور نہ ہی بچوں کے پاس۔

نہ بزرگوں کی وہ کہانیاں باقی رہیں جو ثقافت، روایات اور اخلاقیات کی امین تھیں، نہ والدین کے ساتھ وہ نشستیں رہیں، نہ بچوں میں سیکھنے کا وہ ذوق و شوق باقی رہا اور نہ بڑوں میں سکھانے کا وہ جذبہ۔ گویا بہت کچھ اس تیز رفتار ڈیجیٹل دور کی نذر ہوچکا ہے۔

البتہ مسئلہ ٹیکنالوجی کا وجود نہیں، بلکہ اس کا غیر متوازن استعمال ہے۔ سہولتیں اپنی جگہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں، لیکن جب یہی سہولتیں ہمارے وقت، ہمارے تعلقات اور ہماری ذمہ داریوں پر غالب آنے لگیں تو ہمیں اپنے طرزِ زندگی پر نظرثانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

لمحہ فکریہ ہے۔۔۔کہ کیا واقعی اس دور نے ہمارے بچوں سے ان کا بچپن چھین لیا ہے، یا ہم نے خود ان کے ہاتھوں میں اسکرینیں دے کر ان سے وہ دنیا چھین لی ہے جس میں کہانیاں تھیں، کھیل تھے، بزرگوں کی صحبت تھی اور والدین کی توجہ تھی؟

صرف شکوہ کافی نہیں۔۔۔

اگر یہ رویہ درست نہیں، تو پھر ہم اپنے آپ کو اس ڈیجیٹل سیلاب سے کیسے بچائیں جو خاموشی سے ہمارا وقت، ہمارے رشتے اور ہمارے بچوں کی تربیت و اخلاقیات بہائے لیے جا رہا ہے؟

صرف شکوہ کرنے سے مسئلے حل نہیں ہوتے۔ اگر ہم واقعی اپنے بچوں کا بچپن، ان کی تربیت اور خاندانی رشتوں کی حرارت  کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں خود بھی کچھ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

بچوں کو مکمل طور پر ٹیکنالوجی سے دور کرنا نہ ممکن ہے اور نہ ہی ضروری، البتہ اس کا متوازن استعمال سکھانا ہماری ذمہ داری ہے۔

گھر کے کچھ رہنما اصول۔۔۔

گھر میں اسکرین کے استعمال کے لیے واضح اصول بنائے جائیں۔ کھانے کے اوقات، خاندانی نشستوں اور سونے سے کچھ دیر پہلے موبائل فون اور دیگر ڈیوائسز کو ایک طرف رکھ دینا ایک چھوٹی سی عادت ہے، لیکن اس کے اثرات بہت گہرے ہیں۔

ہفتے میں کچھ اوقات یا ایک دن ایسا بھی ہونا چاہیے جو "ڈیجیٹل فری" ہو، جہاں پورا خاندان ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے، باتیں کرے، کتابیں پڑھے، کھیل کھیلے یا کسی مشترکہ سرگرمی میں حصہ لے۔ یہی لمحات بچوں کی یادوں اور شخصیت کا حصہ بنتے ہیں۔

بچوں کے کمروں میں انفرادی طور پر موبائل یا ٹیبلٹ دینے کے بجائے، گھر کے کھلے ماحول میں نگرانی کے ساتھ ان کا استعمال زیادہ محفوظ اور مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

بچے نصیحت سے زیادہ مثال سے سیکھتے ہیں۔۔۔

بچوں کی تربیت صرف نصیحت سے نہیں بلکہ عملی مثال سے ہوتی ہے۔ اگر ہم خود ہر وقت موبائل فون میں مصروف رہیں گے تو بچوں سے مختلف رویے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟

اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچوں کی اسکرین کی عادت صرف بچوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ اکثر پورے گھر کا طرزِ زندگی ہی اس کی بنیاد بنتا ہے۔ اس لیے بچوں کی اصلاح سے پہلے ہمیں اپنے رویوں اور اپنی عادات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

سکرین کا وقت کم کیسے کریں۔۔۔؟

  • بچوں کے ہاتھ سے موبائل اچانک چھین لینا حل نہیں۔ اس سے ضد اور مزاحمت بڑھتی ہے۔ بہتر ہے کہ آہستہ آہستہ وقت کم کیا جائے اور ساتھ متبادل سرگرمیاں دی جائیں۔
  • کتابیں، کھیل، ڈرائنگ، باغبانی، دستکاری، مطالعہ اور بزرگوں کے ساتھ وقت۔۔۔ یہ سب مل کر بچے کی شخصیت کو متوازن بناتے ہیں۔
  • گھر کا ماحول اگر محبت، گفتگو اور دلچسپی سے بھرپور ہو تو اسکرین کی کشش خود بخود کم ہونے لگتی ہے۔
  • چھوٹے بچوں کو بہلانے، کھلانے یا خاموش کروانے کے لیے موبائل کو مستقل سہارا بنانا ایک خطرناک عادت ہے، کیونکہ یہ ان کے ذہن کو اسکرین پر انحصار سکھا دیتا ہے۔
  • چھوٹے بچوں کو موبائل دینے کی ضرورت ہی کیا ہے، جب گھر کے اندر ہی ان کے لیے اتنی محفوظ اور خوبصورت سرگرمیاں موجود ہو سکتی ہیں؟
  • بڑے بچوں کو اگر تعلیمی ضرورت کے لیے ڈیوائس دی بھی جائے تو اس پر مکمل چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہیے۔ وقت محدود ہو، نگرانی میں استعمال ہو، اور کمروں میں ڈیوائسز نہ دی جائیں۔ جہاں ممکن ہو، موبائل کے بجائے لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر کو ترجیح دی جائے تاکہ استعمال کھلے ماحول میں ہو۔
  • صرف اس بات کی نگرانی کافی نہیں کہ بچے کتنی دیر اسکرین استعمال کر رہے ہیں، بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں اور کس قسم کے خیالات اور رویوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔

ہمارے بچوں کو ہماری ضرورت ہے۔۔۔

حقیقت یہ ہے کہ بچوں کو موبائل سے زیادہ اپنے والدین کی محبت، توجہ اور قربت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بہت سے بچے اسکرینوں میں اس لیے نہیں کھو جاتے کہ انہیں موبائل بہت محبوب ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ تنہائی، بوریت یا توجہ کی کمی سے بچنے کے لیے وہاں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔

بچوں کو اسکرین سے دور کرنے کا بہترین طریقہ یہ نہیں کہ ان کے ہاتھوں سے موبائل چھین لیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ان کے دلوں میں گھر، خاندان اور حقیقی زندگی کی ایسی محبت پیدا کردی جائے کہ وہ خود اسکرینوں کی دنیا کے اسیر نہ بنیں۔

یاد رکھیے۔۔۔

 بچوں کی تربیت صرف انہیں بہترین سہولتیں فراہم کرنے کا نام نہیں، بلکہ انہیں خوبصورت یادیں، مضبوط اقدار اور متوازن زندگی کا شعور دینے کا عمل ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آج ہمارے بچوں کو ہماری مہنگی چیزوں سے زیادہ، ہمارے وقت، ہماری توجہ اور ہماری محبت کی ضرورت ہے۔

کیونکہ ہم ذمہ دار ہیں۔۔۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»

"تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔"

ذرا سوچیے ۔۔۔ کہ کل جب ہم سے ہماری امانتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا، تو کیا ہم یہ کہہ سکیں گے کہ ہم نے اپنی استطاعت بھر ان کی تربیت، ان کے اخلاق اور ان کے وقت کی حفاظت کی تھی؟

یقیناً اس سوال کا جواب بھی ہمیں ہی تلاش کرنا ہے۔۔۔!!!

کیونکہ تربیت صرف رزق پہنچانے کا نام نہیں، بلکہ نسلوں کو سنوارنے کا نام بھی ہے۔۔۔

 اور اس ڈیجیٹل دور میں ہمیں صرف اپنے بچوں کی انگلیاں نہیں، بلکہ ان کے دل بھی تھامنے ہیں۔۔۔

کیونکہ ہم ذمہ دار ہیں۔۔۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی امانتوں کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں اپنے بچوں کی بہترین تربیت، صحیح رہنمائی اور ان کے دلوں میں ایمان، اخلاق اور محبت بٹھانے کی صلاحیت عطا کرے۔ کہ جب کل ہم سے ہماری اس ذمہ داری کے بارے میں سوال ہو تو ہم اپنے رب کے حضور سرخرو ہوسکیں ۔آمین!

والسلام 

آمنہ چاہل 

(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)


دین لفاظی کا نام نہیں

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 


دین لفاظی کا نام نہیں۔۔۔ 

نہ ہی جذباتیت کا نام ہے۔۔۔

 نہ ہی جھوٹ و الزام تراشی کا نام ہے۔۔۔

دین کوئی کھیل بھی نہیں۔۔۔ کہ ہر بندہ / بندی منہ اٹھا کے کھیلنا شروع کردے۔۔ 

دین ادب سکھاتا ہے۔۔۔ ائمہ کا ۔۔۔ اپنے سے بڑوں کا۔۔۔ اہل علم کا۔۔۔ 

اور جو بندہ ائمہ پر سوال جواب شروع کردے ۔۔۔ اس کی کیا وقعت ہونی چاہیے بھلا ؟ 

دین ٹوٹکوں کا نام بھی نہیں کہ کوئی بھی آئے اور چند ٹوٹکے پکڑ کر دوسروں کو گمراہ کرنا شروع کردے۔۔۔


قربان جائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر 🤍

فداه نفسي و أمي وأبي وأهلي ومالي...✨

جنہوں نے وہ دین چھوڑا کہ جس کی راتیں بھی دن کی طرح روشن ہیں۔۔۔ 

اور کیا حکم ہوا تھا بھلا مشرکین کے بارے میں۔۔۔ لكم دينكم ولي دين

متاثر ہونا چھوڑ دیں۔۔۔ پروپیگنڈا کرنے والوں سے ۔۔۔ لفاظی کرنے والوں سے۔۔۔ جھوٹ گھڑنے والوں سے ۔۔۔ دلیل سے بھاگنے والوں سے ۔۔۔ یہ آپ کا وقت و عقیدہ دونوں ضائع کریں گے اور آخر پہ کچھ ہاتھ نہیں آنا۔۔۔ بچ جائیے گمراہی کے اماموں سے ۔۔۔ واللہ الموفق!


قرآن و سنت کی تعلیم سے کسے تکلیف پہنچتی ہے؟ 

وہ جن کو قرآن و سنت سے بیر ہو۔۔۔ اگر آپ کے عمل میں سیدنا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا اثر نہیں ہے ۔۔۔ آپ کے عقائد پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے عقیدہ کے مخالف ہیں۔۔۔ تو چاہے محبت و عقیدت کا کتنا ہی ڈھنڈورا پیٹ لیں۔۔۔ بے سود و بے فائدہ ہے ۔۔۔ ہم جیسے حقیر امتی بھی لوگوں کی صرف لفظی محبت کے دعوؤں کو اپنی توہین سمجھتے ہیں ۔۔۔ تو قربان جائیں پیارے حبیب جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ۔۔۔ ان کی محبت کی صرف لفاظی کرکے اور عمل ان کی لائی شریعت کے مخالف کرکے آپ سمجھتے ہیں آپ بہت بڑے محب رسول بن گئے ہیں ؟ یہ خود فریبی نہیں تو کیا ہے؟


توحید کی دعوت سے کس کا دل تنگ ہوتا ہے ؟ 

وہ جس کا دل شرک کی نجاست سے آلودہ ہو۔۔۔

توحید دین کی اساس ہے ۔۔۔ تمام انبیاء کی دعوت کا مرکز و محور ہے ۔۔۔ اس میں ملاوٹ ہوگئی نا تو نجات ممکن نہیں ۔۔۔ 

رات سے یہ سب باتیں سٹیٹس پر لگا رہی ہوں ۔۔۔ بے مقصد نہیں بلکہ اس لیے کہ مسلمانوں کا روپ دھارے ، خود کو اہل سنت کہلوانے والے کچھ لوگ آپ کے عقیدہ توحید سے کھلواڑ کرنے آئیں گے ۔۔۔ کسی شخصیت ہر تنقید کے راستے تھے۔۔۔ کسی اہل خیر پر الزام تراشی کے راستے سے۔۔۔ مقصد آپ کی توجہ پانا ہوگا۔۔۔ اور جب آپ متوجہ ہوگئے تو کہانی ختم۔۔۔ پس بچ جائیے۔۔۔ ہر بندے کی بات سننے لائق نہیں ہوتی۔۔۔


اب آجاتے ہیں اختلاف کے بنیادی قواعد کی طرف۔۔۔ ہر بات کا کوئی طریقہ اور سلیقہ ہوتا ہے ۔۔۔ یہ نہیں کہ ہم سر جھاڑ منہ پہاڑ ۔۔۔ اٹھ کے کچھ بھی کہہ دیں کسی کے بارے میں ۔۔۔ کوئی بھی الزام تراشی کردیں۔۔۔ کسی کی کردارکشی کرنا شروع کردیں۔۔۔ میں نے کئی ایک لوگوں کو دیکھا ہے غلط عقائد کی تشہیر کرتے ہوئے لیکن کبھی کسی کا نام نہیں لیا ہاں اشارے کنایے سے آپ سب پہ بات واضح کردی کہ یہ بات بھی غلط ، ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ لیکن کبھی کسی کا نام نہیں لیا ۔۔۔ کیوں ؟ کیونکہ یہ ہم جیسے عام طلاب العلم کا کام نہیں ۔۔۔ فتوے لگانا ، ہمارا کام نہیں ۔۔۔ یہ بڑے علماء کا کام ہے۔۔۔ کسی کہ تکفیر کرنا ، کسی کو بدعتی قرار دینا۔۔۔ ہمارا کام نہیں ۔۔۔ اور جو کام جس کا ہو اسی کو جچتا ہے۔۔۔


پتہ ہے مشرکین مکہ سیدنا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے انکار کے باوجود آپ کو صادق اور امین کہتے تھے۔۔۔ وہ امانت و دیانت اس درجہ کی تھی کہ دشمنوں کو بھی انکار نہیں تھا۔۔۔

اور امانت صرف روپے پیسے و اشیاء کی نہیں ہوتی۔۔۔ بلکہ باتوں کی بھی ہوتی ہے ۔۔۔ اور ڈیجیٹل دور میں ہماری یہ جو چیٹنگ ہے یہ بھی امانت کے زمرے میں آتا ہے۔۔۔ اور کسی کی اجازت کے بغیر اس کی چیٹ کے سکرین شاٹس لینا ، پھر ان پر پروپیگنڈا کرنا ۔۔۔ پھر حقائق کو توڑ مڑوڑ کر اپنے انداز میں بیان کرنا ۔۔۔ دئیے گئے حقیقی دلائل پر غور و فکر کی بجائے خود بھی ہٹ دھرمی اختیار کرنا پھر دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرنا ۔۔۔ یہ خیانت نہیں تو اور کیا ہے ؟ یہ ایک انسان کی ذہنیت کی کس قدر پستی کا اظہار ہے؟


اختلاف کے لیے کسی کی چیٹ کے سکرین شاٹس لگانا ضروری نہیں ہے۔۔۔ اب جس بندے کو اختلاف کے یہ بنیادی اصول ہی نہیں معلوم اس کی بات کیونکر معتبر ہوسکتی ہے ؟ وہ بس اپنی عجیب و غریب منطق کو ثابت کرنے کے لیے کسی پر بھی کیچڑ اچھال سکتا ہے ۔۔۔ خواہ وہ ائمہ ہوں یا ہم جیسے احقر۔۔۔ 

بات یہ ہے کہ الحمدللہ ہماری شریعت محفوظ ہے ۔۔۔ نسل در نسل سینہ بہ سینہ ہمارا دین ہمارا عقیدہ ہم تک پہنچا ہے اور بذریعہ اسناد پہنچا ہے۔۔۔ ایک ایک حرف معلوم ہے کہ کس نے کیا کہا اور کس سے سنا اور کس سے بیان کیا۔۔۔ یہ کوئی گری پڑی چیز نہیں کہ کوئی بھی آئے ، کچھ بھی کہہ دے اور ہمیں بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتا چلا جائے۔۔۔ سبحان اللہ! 


اللہ تعالیٰ فہم عطا فرمائے ۔۔۔ آمین! 


* آمنہ چاہل

سراب

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

ان راستوں کے راہی نہ بنیں جو آپ کے لیے نہیں بنائے گئے۔۔۔ یہ سراب کے سوا کچھ نہیں ہیں۔۔۔ 


کہ انسان اپنی ساری محنت، توجہ اور جذبات ایک جگہ لٹا دیتا ہے۔۔۔ اور آخر میں خالی ہاتھ و خالی دامن ہی رہتا ہے۔۔۔ 


بعض راستے شروع میں بہت خوبصورت لگتے ہیں۔۔۔ مگر انجام میں تھکن، پچھتاوا اور محرومی کے سوا کچھ نہیں دیتے۔۔۔


اور بعض راستے ابتدا میں مشکل محسوس ہوتے ہیں۔۔۔مگر آخرکار وہی سکون، برکت اور اصل کامیابی تک لے جاتے ہیں۔۔۔


ہر چمکنے والی چیز منزل نہیں ہوتی۔۔۔اور ہر مشکل راستہ نقصان نہیں ہوتا۔۔۔


پس وہی راستہ اختیار کیجیے جو آپ کو آپ کے رب تک لے جائے۔۔۔ جو آپ کے دل کو سکون دے اور آپ کی آخرت سنوار دے۔۔۔


ورنہ باقی سب راستے۔۔۔ چلنے میں تو مصروف رکھتے ہیں۔۔۔ تھکاتے بھی خوب ہیں۔۔۔ مگر پہنچاتے کہیں بھی نہیں۔۔۔ 


اللهم لا تعلق قلبي بما ليس لي... آمين! 


* آمنہ چاہل

علم اور دعوت… مگر کس قیمت پر؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


علم حاصل کرنا یقینا ایک عبادت ہے۔۔۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے انسان اپنے رب کو پہچانتا ہے۔۔۔ اپنے آپ کو سنوارتا ہے۔۔۔اور دوسروں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنتا ہے۔۔۔ الحمدللہ۔۔۔


لیکن سوال یہ ہے کیا ہر وہ عمل جو بنیادی طور پر عبادت ہو۔۔۔ اپنا توازن کھو دینے کے بعد بھی عبادت ہی رہتا ہے۔۔۔؟


آج ہمارے معاشرے میں ایک خاموش مگر سنگین مسئلہ سر اٹھا رہا ہے۔۔۔جہاں علم کی پیاس میں مگن کچھ طالبات اس قدر مصروف ہو گئی ہیں کہ ان کی اپنی حقیقی زندگی کہیں پیچھے چھوٹ گئی ہے۔۔۔

ان کے لیے۔۔۔

گھر۔۔۔بس ایک ذمہ داری بن جاتا ہے۔۔۔

خاوند۔۔۔ توجہ کا محتاج رہتا ہے۔۔۔

بچے۔۔۔ ماں کی موجودگی کے باوجود اس کی توجہ سے محروم ہو جاتے ہیں۔۔۔۔


 کچھ تلخ حقائق:

اگرچہ اس حوالے سے میں ان گنت مثالیں جانتی ہوں۔ البتہ اختصار کے پیش نظر چند ایک ذکر کیے دیتی ہوں۔۔۔ 

شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔۔۔ 


 🔹 ہر وقت حصول علم میں مصروف ایک بہن۔۔۔

یہ ایک ایسی بہن ہیں کتاب ان کے ہاتھ سے چھوٹتی ہی نہیں۔۔۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ پڑھنا۔۔۔ سننا۔۔۔ نوٹس بنانا۔۔۔ یہی ان کی دنیا ہے۔۔۔۔

شروع شروع میں یہ شوق تھا۔۔ پھر عادت بن گیا۔۔۔ پھر مصروفیت۔۔۔ اور اب ایک ایسی کیفیت کہ ذہن ہمیشہ بھرا ہوا رہتا ہے۔۔۔۔


خاوند بات کرے تو وہ سن تو لیتی ہیں۔۔۔ مگر دل حاضر نہیں ہوتا۔۔۔

خاوند کی خوشی۔۔۔ اس کی تھکن۔۔۔اس کی باتیں۔۔۔ بیوی تک *"پہنچتی"* ہی نہیں۔۔۔


وہ خود بھی خاوند کے حوالے سے کچھ محسوس نہیں کرتیں۔۔۔کہ دماغ ہر وقت بھرا رہتا ہے اور اس میں کچھ محسوس کرنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔۔۔ 

اور  آہستہ آہستہ ان کے درمیان ایک جذباتی فاصلے نے جنم لے لیا ہے۔۔۔


سوال یہ نہیں کہ وہ غلط ہیں۔۔۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ وہی توازن ہے جو دین ہمیں سکھاتا ہے؟

میری بہنو۔۔۔ کیا یہ ابلیس کی تلبیس نہیں کہ تمہیں علم کے حصول میں اس قدر مصروف کردیا کہ وہ خاوند جو تمہیں اپنی زندگی میں سکون بنا کر لایا تمہیں اس کے سکون کا سوچنے کی فرصت ہی نہیں۔۔۔ وہ مودت و رحمت جس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے وہ کب پیدا ہوگی جب تمہارا دل و دماغ ہی اس قدر مصروف ہوگا؟ 


 🔹 علم کے حلقات میں مصروف بہن۔۔۔

ایک اور بہن۔۔۔ جو کہ علم کے حلقات، دروس، کلاسز ۔۔۔ ہر وقت کسی نہ کسی علمی مصروفیت میں مگن ہیں۔۔۔ 

اور وہ فکر مند بھی ہیں۔۔۔ بہت پریشان ہیں کہ ان کے بچے کارٹونز، موویز کے عادی ہو رہے ہیں۔۔۔ ان کے اخلاق بدل بگڑ رہے ہیں۔۔۔ بچوں میں دین سے دوری محسوس ہو رہی ہے۔۔۔


سوال یہ ہے کہ۔۔۔ 

 *ان بچوں کے پاس ماں کب ہوتی ہے۔۔۔؟* 

وہ ماں جو ان کے ساتھ بیٹھے۔۔۔

ان سے بات کرے۔۔۔

ان کی دنیا سمجھے۔۔۔

ان کے دل میں دین بٹھائے۔۔۔


 *اگر ماں خود ہی ہر وقت مصروف ہو۔۔۔تو بچوں کی تربیت کون کرے گا؟* 


⚠️ ایک اور پہلو۔۔۔ جس پر بات نہیں کی جاتی۔۔۔ 

یہ کہ بہت سی بہنیں علم کے اتنے مراحل طے کر لیتی ہیں۔۔۔ کہ انہیں اپنا ہی خاوند *"چھوٹا"* محسوس ہونے لگتا ہے۔۔۔

باتوں میں۔۔۔ انداز میں۔۔۔ رویے میں ایک برتری آ جاتی ہے۔۔۔۔

اور یہی وہ دراڑ ہے۔۔۔ جہاں سے کئی گھروں کی بنیادیں ہلنا شروع ہو جاتی ہیں۔۔۔


❗ *اسی طرح کچھ بہنوں کے ذہن میں یہ تصور بیٹھ جاتا ہے کہ زندگی کی اصل "دعوت و تبلیغ" ہے۔۔۔*  اور گھر، خاوند اور بچے سب secondary ہیں۔۔۔


پھر جب ان سے گھرداری کا سوال ہوتا ہے۔۔۔ تو ان کا دل اسے قبول نہیں کرتا۔۔۔ اور پھر یہی وہ مقام ہوتا ہے۔۔۔ جہاں گھر ٹوٹنے کی بنیاد پڑتی ہے۔۔۔ 


✨ میری بہنو۔۔۔ ایک لمحہ رک کر یہ ضرور سوچیں۔۔۔

 *آپ پر جو فرائض ہیں۔۔۔* ان کا علم حاصل کرنا سب سے پہلے ضروری ہے۔۔۔۔ وہ علم جو آپ کی فرض عبادات، آپ کے حقوق، آپ کی ذمہ داریوں کا ادراک کروائے۔۔۔ اور عمل کے لیے رہنمائی مہیا کرے۔۔۔ 


⚠️ لیکن اگر ہم فروعی مباحث میں اس قدر الجھ جائیں۔۔۔ کہ اپنے ہی گھر، اپنے خاوند، اور اپنے بچوں کو نظر انداز کرنے لگیں۔۔۔ *تو کیا ہم واقعی ترجیحات کو درست جگہ پر رکھ پا رہی ہیں؟* 


یاد رکھیے۔۔۔ 

انہی حقوق کے بارے میں ہم سے سوال ہونا ہے۔۔۔ اور انہی رشتوں کے بارے میں ہم نے اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دینا ہے۔۔۔

⁉️ خود سے یہ سوال بھی ضرور کجیے:

کیا مجھے گھرداری آتی ہے۔۔۔؟

کیا میں نے یہ سیکھا کہ خاوند کی دلجوئی کیسے کرنی ہے۔۔۔؟

کیا میں جانتی ہوں کہ بچوں کی پرورش کیسے کرنی ہے۔۔۔؟

ان کی تربیت کیسے کرنی ہے۔۔۔؟

ان کے دل میں دین کیسے بٹھانا ہے۔۔۔؟


اور یہ بھی سوچیں۔۔۔

آپ جائے نماز پر لمبا قیام کریں۔۔۔ اور آپ کا خاوند آپ کی توجہ کا محتاج ہو۔۔۔ آپ سارا سارا دن علمی مجالس و حلقات میں مصروف ہوں اور آپ کا گھر اور بچے آپ کی موجودگی کو ترسیں۔۔۔ 

کیا یہ رویہ واقعی درست ہے؟

کیا یہی وہ توازن ہے جو اسلام سکھاتا ہے۔۔۔؟


ہم اکثر بھول جاتی ہیں کہ:

دین صرف کتابوں میں ہی نہیں۔۔۔

دین برتن دھونے میں بھی ہے۔۔۔

بچوں کو گلے لگانے میں بھی ہے۔۔۔ 

خاوند کے ساتھ مسکرا کر بات کرنے اور اس کی دلجوئی میں بھی ہے۔۔۔


اگر ایک عورت علم حاصل کر رہی ہے۔۔۔ مگر اس کے اپنے گھر والے اس کے اخلاق، اس کی توجہ، اور اس کی موجودگی سے محروم ہیں۔۔۔ تو یہ لمحہ فکریہ ہے۔۔۔ 


سوال یہ ہے کہ۔۔۔

کیا ہم علم کے ذریعے اپنے معاملات کو سنوار رہی ہیں۔۔۔  یا صرف مصروف ہو رہی ہیں؟


یاد رکھیے۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہمیں توازن ہی سکھایا ہے۔۔۔۔

ایک حق ادا کرتے ہوئے دوسرے حق کو پامال کرنا۔۔۔ یا نوافل میں اس قدر مگن ہونا کہ فرائض چھوٹ جائیں۔۔۔ یہ کم از کم ہمارے دین کا طریقہ نہیں۔


آپ کے خاوند کا حق۔۔۔

آپ کے بچوں کا حق۔۔۔

اور آپ کے گھر کا حق۔۔۔

یہ سب بھی اتنے ہی مقدس ہیں جتنا علم حاصل کرنا یا دعوت و تبلیغ کرنا۔۔۔ بلکہ یہ آپ کے وہ فرائض ہیں جو باقی سب امور پر فوقیت رکھتے ہیں۔۔۔ 


پتہ ہے ہماری اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہم کتنا جانتی ہیں۔۔۔بلکہ یہ ہے کہ ہم جو جانتی ہیں۔۔۔ اسے اپنی زندگی میں کیسے نافذ کرتی ہیں۔۔۔


پس۔۔۔ 

اگر آپ طالبة العلم ہیں... تو اپنے علم کو اپنے گھر میں نافذ کرکے دکھائیے۔۔۔ اپنے اخلاق میں۔۔۔ اپنی نرمی میں۔۔۔اپنی موجودگی میں۔۔۔


کہیں ایسا نہ ہو۔۔۔

کہ روز قیامت ہم علم کے ڈھیر لے کر کھڑی ہوں۔۔۔ مگر وہ دل خالی ہوں جنہیں ہمیں سنوارنا تھا۔۔۔ 💔


کہیں ایسا نہ ہو۔۔۔

کہ ہمارے پاس دلائل تو بہت ہوں۔۔۔مگر ہمارے اپنے بچے دین سے خالی ہوں۔۔۔💔


کہیں ایسا نہ ہو۔۔۔ کہ دنیا ہمیں *"عالمہ"* کہے... مگر ہمارا اپنا گھر ہمارے علم کی گواہی نہ دے۔۔۔ 💔


یاد رکھیے۔۔۔ 

اللہ تعالیٰ ہم سے صرف اس علم کے بارے میں نہیں پوچھے گا جو ہم نے سیکھا۔۔۔ بلکہ ان نفوس کے بارے میں بھی پوچھے گا جو ہماری ذمہ داری تھے۔۔۔ 

تو کیا آپ اپنی ذمہ داری بخوبی نبھا رہی ہیں۔۔۔؟ 

بطور بیوی۔۔۔ بطور ماں۔۔۔؟

واللہ الموفق۔۔۔

اللہ تعالیٰ ہمیں فہم و اصلاح کی توفیق سے نوازے اور ہمیں اپنے معاملات میں توازن قائم کرنا سکھادے۔۔۔ آمین! 


والسلام 

 آمنہ چاہل

بڑھتے ہوئے جنسی جرائم: اسباب، احتیاط اور ہماری ذمہ داریاں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  بڑھتے ہوئے جنسی جرائم: اسباب، احتیاط اور ہماری ذمہ داریاں جب بھی کسی معصوم بچے یا بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر سا...