Friday, 19 December 2025

نامحرم کی محبت: ایک روحانی و نفسیاتی بیماری اور اس کا شفا بخش علاج

 


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

نامحرم کی محبت: ایک روحانی و نفسیاتی بیماری اور اس کا شفا بخش علاج

پیاری بہن۔۔۔ 

اَرْشَدَكِ اللهُ بِطَاعَتِهِ

اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت کی طرف آپ کی رہنمائی فرمائے۔۔۔آمین! 

کبھی وہ دور تھا کہ گھر کی مستورات خاص طور پر نوجوان و کنواری بچیوں کو نہ کوئی غیر دیکھ پاتا تھا ، نہ ان کے بارے میں سن پاتا تھا اور نہ ہی وہ کسی غیر کو دیکھتی و سنتی اور سوچتی تھیں ۔۔۔ ہمارے اسلاف کی نوجوان کنواری بچیاں پردہ و حیاء میں اس قدر باعمل کہ چاند بھی شرما جائے ۔۔۔ 

اللہ تعالیٰ ہمارے حالوں پر رحم فرمائے ۔۔۔ انٹرنیٹ و ٹی وی نے کم بربادی نہیں کی تھی کہ رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کردی ۔۔۔ اب ہر خاص و عام ، بچے ، بوڑھے ، جوان کے ہاتھ میں موبائل فونز ہیں ، عجیب و غریب ایپلیکیشنز تک رسائی اور ان سے ہوتے ہوئے ایسی ایسی برائیوں تک رسائی ہے کہ پرانے دور کے بدقماش بھی آجائیں تو دیکھ کے شرما جائیں ۔۔۔

کو ایجوکیشن و سوشل میڈیا کے توسط سے آج ہر بندہ / بندی کسی نہ کسی طرح سے حرام تعلقات میں مشغول ہے۔ معصوم ذہن کی بچیاں یہاں رنگ رنگ کے بہروپیوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر اپنا قیمتی وقت، اپنی جوانی اور سب سے بڑھ کر اپنی حیا قربان کر بیٹھتی ہیں ۔۔۔ وہ حیاء جو ایک لڑکی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتی ہے۔۔۔ 

سوشل میڈیا پر محبت کے نام پر کیا کیا خرافات ہوتی ہیں ان پر فی الحال بات کرنے کی گنجائش نہیں کہ بہت سی بہنوں کی طرف سے سوال آیا ہے کہ:

 اگر کسی نامحرم کی محبت میں مبتلا ہو جائیں اور نکلنا چاہیں تو کیا کرنا چاہیے؟ 

کیسے نکلنا ہے ؟ یہ جاننے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ نامحرم سے محبت ایک نفسیاتی و روحانی بیماری ہے ، بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ ہر وہ محبت جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے بڑھ کر ہو ، اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں رکاوٹ ہو ، رب العالمین سے بغاوت پر اکسائے تو یہ محبت نہیں بلکہ ایک ناسور (رستا ہوا زخم) ہے جو روحانی ، اخلاقی ، عقلی و جسمانی زوال کے سوا کچھ نہیں دیتا۔۔۔

یہ  وہ بیماری ہے جو :

  • عبادت میں سستی لاتی ہے۔۔۔
  • دل کو اللہ  تعالیٰ سے غافل کرتی ہے۔۔۔
  • ذہن کو وسوسوں سے بھر دیتی ہے۔۔۔
  • اور  انسان کی خودی (self-worth) کو کمزور کر دیتی ہے۔۔۔

اس لیے اس کا علاج فرض ہے، اختیاری نہیں!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے: 

وَ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجَزْ

جس چیز سے تمہیں (حقیقی) نفع پہنچے اس میں حرص کرو اور اللہ سے مدد مانگو اور کمزور نہ پڑو (مایوس ہو کر نہ بیٹھ جاؤ)۔۔۔ الحدیث 

(صحیح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6774)

الحمدلله آپ کا دل ابھی زندہ ہے۔۔۔

یہاں میں آپ کو یہ خوشخبری بھی دینا چاہوں گی کہ آپ کے دل میں اس بیماری و نافرمانی سے نکلنے کا خیال پیدا ہونا بھی اللہ رب العزت کی آپ پر خاص عنایت و فضل کی علامت ہے کہ رب العالمین نے آپ کو اس نافرمانی نے اندھیرے سے نکلنے کی اگر سوچ عطا کی ہے تو یقینا اس سے نکالنے میں مددگار بھی ہوگا۔۔۔

نافرمانیوں اور گناہوں سے انسان کا دل سیاہ ہوجاتا ہے ۔۔۔ آپ کی نافرمانی سے نکلنے کی تڑپ اس بات کی گواہی ہے کہ ابھی آپ کا دل مکمل مردہ نہیں ہوا بلکہ اس میں زندگی کی رمق باقی ہے الحمدللہ ۔۔۔ اللہ تعالیٰ آپ کے دل کو اپنی محبت کے نور سے بھر دے کہ پھر حب اللہ کے سوا کچھ  اور کی طلب نہ رہے۔۔۔ آمین! 

بیماری کا علاج کیا جاتا ہے۔۔۔

 بیماری کا ادراک ہونے پر اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو بیماری کے بڑھنے اور جان لیوا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ۔ اور جس بیماری کی ہم بات کررہے ہیں وہ انسان کو اندر ہی اندر روحانی و ذہنی طور پر مردہ کردیتی ہے یوں کہ ذہن مکمل طور پر مفلوج ہوجاتا ہے ، جذبات بالکل Freeze ہوجاتے ہیں ، بندہ کچھ سوچنے سمجھنے سے قاصر ہوجاتا ہے ، نام نہاد محبت کے نام پر اللہ تعالیٰ کی جو نافرمانیاں کی جاتی ہیں وہ ذہنی و قلبی سکون چھین لیتی ہیں ، پریشانی بڑھتی ہے ،بات بڑھتے بڑھتے ذہنی تناؤ کی حدیں پار کرتے ہوئے ڈپریشن تک جا پہنچتی ہے۔۔۔ اور اس ڈپریشن کی حالت میں انسان مکمل طور پر شیطان کے ہاتھوں میں ایک فٹبال کی طرح ہوتا ہے کہ جدھر چاہے پھینک دے۔۔۔ پریشان و ڈپریسڈ مومن شیطان کا سب سے پسندیدہ ہوتا ہے کہ اسے شکار کرنا آسان ہے۔۔۔ جو بہنیں اس حالت سے گزر رہی ہیں یا گزری ہیں وہ میری اس بات سے ضرور متفق ہوں  گی کہ جب سٹریس کی انتہاء تھی تو شیطان نے کیا کیا وسوسے ذہن میں نہ ڈالے ؟ رشتوں سے قطع تعلقی ہو ، اپنی زندگی کے تعمیری پہلوؤں کو ختم کرنا ہو ، ذمہ داریوں سے جان چھڑانی ہو ، حقوق اللہ و حقوق العباد کو ترک کرنا ہو ، دنیا جہان سے قطع تعلقی ہو یا پھر خودکشی!!!! 

یہ اور اس طرح کے وسوسے یقینا ہر اس بندے کو آتے ہیں جو ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے۔۔۔ اور پھر شیطان کا تر نوالہ بن جاتا ہے۔

ایسی صورت حال میں بس یہ بات یاد رکھنی ہے کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا اور شیطان کے کسی وسوسے میں آکر کسی قسم کا کوئی کام نہیں کرنا ۔۔۔ اللہ تعالیٰ سے ہمت و طاقت مانگنی ہے۔ 

خیر موضوع کی طرف دوبارہ آتے ہیں۔۔۔

جب ہم نے یہ جان لیا ہے کہ نامحرم کی محبت ،  اور لگاؤ آپ کو روحانی و اخلاقی زوال کا شکار کررہا ہے اور ایک بیماری سے بڑھ کر کچھ نہیں اور جس طرح جسمانی بیماری کو نظر انداز نہیں کیا جاتا،اسی طرح نامحرم کی محبت کو “بس دل کا معاملہ” کہہ کر چھوڑ دینا خود فریبی ہے۔ تو اب آتے ہیں کہ اس بیماری کا علاج کیسے کیا جائے؟ 

مرحلہ وار شفاء کا راستہ:-

آئیے اب step by step 🪜 شفا (healing) کے مراحل طے کرتے ہیں:

➊ نیت کی درستگی

سب سے پہلے آپ کی نیت کا درست ہونا بہت ضروری ہے ۔ خود سے سوال کیجیے : 

میں یہ تعلق کیوں چھوڑ رہی ہوں ؟ 

تو سب سے پہلے اس بات کا ادراک و اقرار ضروری ہے کہ میں یہ تعلق اللہ کی رضا کے لیے چھوڑ رہی ہوں، کسی انسان کے لیے نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ذیشان ہے: 

إنك لَن تدَع شيئًا للهِ عزَّ وجلَّ إلا بدَلك اللهُ به ما هو خيرٌ لكَ منه

“تم اللہ عزّوجلّ کے لیے کوئی چیز چھوڑو گے تو اللہ تمہیں اس سے بہتر ضرور عطا فرمائے گا۔”

[الراوي : - | المحدث : الألباني | المصدر : السلسلة الصحيحة الصفحة أو الرقم : 2/734]

➋ سچی توبہ:

یاد رکھیے شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے۔ وہ بہت پکا کھلاڑی ہے۔ اس کا طریقہ واردات یہ بھی ہے کہ پہلے وہ انسان کو گناہ پر اکساتا رہتا ہے، جب انسان اس کے وسوسوں کا شکار ہو کر گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اب نئے وسوسے دل و دماغ میں بھرنا شروع کردیتا ہے کہ تم تو گناہگار ہو ، تم تو نافرمان ہو ، تمیں تو اللہ تعالیٰ بخشے گا ہی نہیں ، تم کس منہ سے اب اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو گے ، دعا مانگو گے ، توبہ کرو گے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ 

جب کہ قربان جائیں ہمارے مہربان رب پر جو فرماتا ہے: 

وَاِذَا سَاَلَـكَ عِبَادِىۡ عَنِّىۡ فَاِنِّىۡ قَرِيۡبٌؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلۡيَسۡتَجِيۡبُوۡا لِىۡ وَلۡيُؤۡمِنُوۡا بِىۡ لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُوۡنَ ۞

اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بے شک میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، تو لازم ہے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔

(سورة البقرة: 186)

پس لوٹ آئیے اپنے رب کے در پر ۔۔۔ وہ آپ کی توبہ کو قبول کرکے گناہوں کو مٹانے پر قادر ہے۔ الحمدللہ! 

سچی توبہ کے چار مراحل ہیں:

  • گناہ کو گناہ ماننا
  •  دل سے ندامت
  •  فوراً چھوڑ دینا
  •  دوبارہ نہ لوٹنے کا پختہ ارادہ

➌مکمل قطع تعلقی (No Contact Rule)

اگر شفاء چاہتی ہیں تو مکمل طور پر قطع تعلقی کرنی ہوگی۔ یعنی 

  • بات چیت بند 
  • سوشل میڈیا پر بلاک / میوٹ 
  • یادیں تازہ کرنے والی چیزیں ہٹادیں 

یاد رکھیے یہ سب کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ نصف چھوڑنا کبھی بھی آپ کو heal نہیں ہونے دے گا۔ شفاء چاہیے تو مکمل چھوڑنا ہوگا۔

➍ دل کے خالی پن کو درست چیز سے بھرنا

ہمارا دل خالی نہیں رہ سکتا ۔ اگر ہم دل سے نامحرم کی محبت کو نکال رہے ہیں تو اس کی جگہ اسے ایسی چیز سے بھرنا ہوگا جومکمل پائیدار و حتمی ہو اور healing میں مددگار ہو۔ تو رب العزت کی محبت سے بڑھ کر دل کے لیے پاکیزہ و محفوظ اور کیا ہوسکتا ہے ؟ 

پس دل کو اللہ تعالیٰ کی محبت سے بھرنے کی کوشش کرنی ہے۔ اس کی فرمانبرداری کے ذریعے ، اس کی رضا کا سبب بننے والے اعمال کے ذریعے اگرچہ چھوٹے ہوں لیکن خالص اور معیاری ہوں ۔ پس 

  • قرآن مجید کے ساتھ تعلق بڑھائیے ، زیادہ وقت قرآن مجید کے ساتھ گزارنے کی کوشش کریں 
  • نماز میں یکسوئی و توجہ لانے کی کوشش کریں 
  • دل و زبان کو ذکر سے تر رکھیے 
  • استغفار کی کثرت کیجیے
  • صالحین کی صحبت اختیار کیجیے
  • صحتمند مصروفیات تلاش و اختیار  کیجیے 
  • نیکیوں کی کثرت کیجیے ( اگرچہ چھوٹی چھوٹی  ہی ہوں) : بلاشبہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں اور یقینا دل پر اس کے اثرات کو بھی مٹادیں گی ان شاءاللہ!

➎اپنے  جذبات کو دبائیں نہیں، بلکہ انہیں سمجھیں

یاد رکھیے اس healing کے عمل کے دوران بار بار دل دکھ سے بھر آئے گا ، آنکھیں نم ہوں گی ، پس ایسے میں رونا آئے ، اداسی چھا جائے تو اسے کمزوری نہ سمجھیں ۔ بلکہ رولیجیے۔ رونا بذات خود ایک بہت بہترین تھراپی ہے دل کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے۔ 

  • پس اپنے آنسو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لے جائیے، اپنی تکلیف کا اظہار کیجیے ،اسے بتائیے کہ  یارب تیری  بندی ٹوٹ رہی ہے ، اسے سنبھال لے۔ وہ رب آپ کے دل کی تڑپ ، آنکھوں سے بہتے آنسو ضائع نہیں کرے گا بلکہ آپ کو مضبوطی و سہارا عطا کرے گا ، ان شاءاللہ! 
  • ڈائری لکھنے کی عادت بنائیے کہ لکھنا بھی ایک تھراپی کا کام دیتا ہے جب ہم اپنے جذبات و خیالات کو قلم کے ذریعے کاغذ پر بکھیر دیتے ہیں تو دل ہلکا ہوجاتا ہے۔ لکھیں ضرور ، چاہے بعد میں لکھا ہوا ضائع ہی کردیں۔ 

یہ emotional detox ہے جو شفاء کے لیے بہت ضروری ہے۔ 

➏ خودی کی بحالی (Self-Worth Healing)

اکثر نامحرم کی محبت تب بڑھتی ہے جب ہم خود کو نہیں سمجھتے ، اپنے آپ سے نا آشنا ہوتے ہیں ،اپنے آپ کو کم تر سمجھتے ہیں، اپنی خودی کو گرا دیتے ہیں اور باہر سے validation چاہتے ہیں۔ 

یاد رکھیے۔۔۔

آپ کی قدر اور مقام و مرتبہ  کسی فانی انسان کے چاہنے  اور لفاظی سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے بلند ہوتا ہے۔

➐ وسوسوں کا مقابلہ (Thought Control)

شفاء کے اس سفر میں شیطان آپ کو یونہی نہیں چھوڑے گا ، وہ بار بار مختلف وسوسے آپ کے دل میں لائے گا۔ ماضی کی یادیں ، اس انسان کی اچھائیاں ، کئے گئے وعدے ، گزرے لمحات ۔۔۔ 

پس جب کبھی ایسا وسوسہ پیدا ہو تو فورا اپنے دل میں کہیں:

اگر وہ میرے لیے بہتر ہوتا، تو اللہ تعالیٰ اسے حلال راستے سے میرے قریب کرتا۔۔۔

یہ cognitive reframing ہے ، دماغ کو سچ سکھانے کا طریقہ۔

➑ صبر کا درست مطلب سمجھیں

یاد رکھئیے healing کے جس سفر کا آپ نے انتخاب کیا ہے اس میں آپ کے صبر کا عملی مظاہرہ درکار ہے۔۔۔ یعنی تکلیف شدید ہے ، گناہ کی چاہ شدید ہے لیکن صبر کرتے ہوئے خود کو گناہ سے روکے رکھنا۔۔۔ یہ گھٹن و خاموش برداشت نہیں، بلکہ عزت کے ساتھ خود کو غلطی میں مبتلا ہونے سے روکنا ہے۔ اور یاد رکھیے صبر کرنے والے ہی اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندے ہیں۔

➒خود کو الزام دینا چھوڑ دیں

 اپنے بارے میں اچھے خیالات سوچیے۔ منفی خیالات کا رد کیجیے۔ جب ذہن میں کوئی منفی خیال آئے تو اسے فورا جھٹک دیجیے ، خود پر نرمی و مہربانی کریں۔ جب بھی اپنے آپ سے متعلق کوئی منفی خیال آئے جیسے 

میں بہت بری ہوں ۔۔۔ وغیرہ 

تو فورا ذہن میں یہ خیال دہرائیے : 

یہ میری  آزمائش میں تھی، اور اس میں  میں نے اپنے  اللہ کو چنا۔ الحمد للّٰہ! 


شفاء کی نشانیاں:-

ان شاءاللہ ایک وقت ایسا آئے گا جب آپ محسوس کریں گی 

  • دل میں سکون سا اتر رہا ہے۔۔۔
  • عبادت میں لذت۔۔۔ 
  • اس شخص کا خیال آنا کم ہوگیا ہے۔۔۔
  • خود پر اعتماد بحال ہوگیا ہے۔۔۔

ایسے میں سمجھ جائیے گا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے شفاء کی نشانیاں ہیں۔ الحمدللہ! 

پس یاد رکھیے۔۔۔! 

اگر آپ نے نامحرم کی محبت کو اللہ تعالیٰ کے لیے چھوڑا ہے تو 

  • آپ ناکام نہیں ہوئیں۔۔۔
  • آپ نے گھاٹے کا سودا نہیں کیا۔۔۔
  • آپ کمزور نہیں پڑیں۔۔۔
  • آپ نے خود کو بچا لیا۔۔ 

اور اللہ تعالیٰ ان دلوں کو ہی خاص مقام عطا فرماتا ہے جو اس کی خاطر ٹوٹتے ہیں۔۔۔ اس کی خاطر نافرمانی کو ترک کرتے ہیں ۔۔۔ اس کی خاطر خواہشات کو قربان کرتے ہیں ۔۔۔ الحمدللہ!

اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کو دو نعمتیں دینے کا وعدہ فرمایا ہے

 لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

کہ انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔

تو پھر ہم  ماضی کا غم کیوں کر پالیں اور مستقبل کے خوف کیوں کر لے لے کر پھریں۔ کہ ماضی بھی رب کے حوالے اور مستقبل بھی۔۔۔ اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیجیے اور کہیے : 

وَاُفَوِّضُ اَمۡرِىۡۤ اِلَى اللّٰهِؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ

اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، بے شک اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔

کہ میں اپنا معاملہ ، اپنا ماضی ، حال و مستقبل اس رب کے سپرد کردوں کہ جو میرے ظاہر و باطن کو جانتا ہے ۔ میری کہی و ان کہی بات سے واقف ہے ، جو مجھ سے زیادہ مجھ کو جانتا ہے اور جو مجھ سے سب سے زیادہ  محبت کرتا ہے۔ اس کے سپرد کیا گیا معاملہ ضائع نہیں جاتا۔۔۔ الحمدللہ! 


یارب العالمین ۔۔۔ 

جن دلوں نے تجھے چنا ، انہیں سکون ، شفاء اور اپنے قرب سے نواز دے۔۔۔ 

یا رب العزت ۔۔۔

ہمارے دلوں کو اپنی محبت سے بھر دے ، ہمیں اپنی محبت میں  شدید کردے کہ جسے تیری محبت مل جائے اسے اور کیا چاہیے۔۔۔! 

آمین! 


والسلام: 

أختكم في الدين : آمنہ چاہل 

اسلامک لائف کوچ 




1 comment:

  1. I am just stunned.
    Yes the road to recovery is hard.I often cry and cry a lot.My routine is disturbed.I am unable to focus on my usual stuff.I dispell the negative energies by resorting to the thought Allah will not leave me alone.Probably,I was destined to pass through it because my Allah wanted to purify me.I am the one who never felt attraction for anyone,but suddenly it happened.No.matter if it also brought me closer to my Allah and caused me to denounce sins,but it is Haraam.Yes,I do pray to Allah to unite us but on Halal terms and no wonder it is easy for my Lord.May Allah show me the right path and keep me on the right track.

    ReplyDelete

بڑھتے ہوئے جنسی جرائم: اسباب، احتیاط اور ہماری ذمہ داریاں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  بڑھتے ہوئے جنسی جرائم: اسباب، احتیاط اور ہماری ذمہ داریاں جب بھی کسی معصوم بچے یا بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر سا...