بسم الله الرحمن الرحيم
اسلام پسند کی شادی سے نہیں روکتا، پسند تک پہنچنے کے حرام راستوں سے روکتا ہے
اکثر بہنوں کی طرف سے ایسے پیغامات موصول ہوتے ہیں:
"آپی! کیا شادی سے پہلے کسی کو پسند کرنا غلط ہے؟"
"کیا ہم اپنی پسند سے شادی نہیں کرسکتیں؟"
کچھ بہنیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو کسی ناجائز تعلق (relationship) میں مبتلا ہوتی ہیں۔ وہ اس سے نکلنا تو چاہتی ہیں، لیکن نکل نہیں پاتیں۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے نصیحت، رہنمائی اور کاؤنسلنگ کے ذریعے بہت سی بہنیں اس راستے سے واپس آجاتی ہیں۔ اس موضوع پر میرا ایک مستقل تفصیلی آرٹیکل موجود ہے جو اس لنک سے پڑھا جاسکتا ہے:
https://aminariazchahal.blogspot.com/2025/12/blog-post.html
وَّذَكِّرۡ فَاِنَّ الذِّكۡرٰى تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ
"اور نصیحت کر، کیونکہ یقینا نصیحت ایمان والوں کو نفع دیتی ہے۔" (سورة الذاريات: ٥٥)
آج ہم ایک اہم سوال پر بات کرتے ہیں:
کیا لڑکی اپنی پسند کی شادی نہیں کرسکتی؟
اس کا مختصر جواب ہے:
جی ہاں، اسلام لڑکی کو اپنی پسند سے شادی کرنے سے نہیں روکتا، بلکہ پسند اور نکاح کے درمیان اختیار کیے جانے والے حرام راستوں سے روکتا ہے۔
بحیثیتِ مسلمان ہماری زندگی کا اصول بہت سادہ ہے: ہر کام اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر کرنا ہے۔
➊ غضِ بصر
اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور عورتوں دونوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے۔
جب انسان اپنی نگاہوں کی حفاظت کرتا ہے تو بہت سے فتنوں کے دروازے ابتدا ہی میں بند ہوجاتے ہیں۔ دل میں پیدا ہونے والی بہت سی آزمائشیں نگاہوں ہی سے شروع ہوتی ہیں۔
یاد رکھیے! آج کے دور میں غضِ بصر صرف بازاروں اور راستوں میں نہیں، بلکہ موبائل اسکرینوں، سوشل میڈیا، تصاویر اور ویڈیوز پر بھی لازم ہے۔
➋ وقرن في بيوتكن
اللہ تعالیٰ نے عورت کو وقار، تحفظ اور عفت کے ساتھ زندگی گزارنے کی تعلیم دی ہے۔
جب انسان بلا ضرورت اختلاط اور غیر ضروری میل جول سے بچتا ہے تو بہت سے فتنوں سے محفوظ رہتا ہے۔ نہ خود آزمائش میں پڑتا ہے اور نہ دوسروں کے لیے آزمائش بنتا ہے۔
➌ پردے کے احکام اور محارم کی حدود
اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ کن افراد کے سامنے پردے کی رعایت ہے اور کن کے سامنے نہیں۔
جو رب اپنے بندوں سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے، وہی ان کی حفاظت کے لیے حدود مقرر کرتا ہے۔ جب ہم ان حدود کی پاسداری کرتے ہیں تو بہت سے فتنوں کے راستے خود بخود بند ہوجاتے ہیں۔
➍ گفتگو کا انداز
اگر کسی ضرورت کے تحت غیر محرم سے بات کرنی پڑ جائے تو شریعت نے اس کا طریقہ بھی سکھایا ہے۔ اور ضرورت کی شناخت بھی شریعت میں کی گئی ہے۔
گفتگو باوقار، سنجیدہ اور ضرورت کے مطابق ہو، ایسی نہ ہو کہ کسی کے دل میں فتنہ پیدا ہو یا غلط توقعات جنم لیں۔
➎ ہماری زندگی کا اصل مقصد
اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی عبادت اور بندگی کے لیے پیدا فرمایا ہے۔
جب انسان اپنی اصلاح، عبادت، علم، دعوت اور آخرت کی تیاری میں مصروف رہتا ہے تو بہت سی فضول مصروفیات خود بخود زندگی سے نکل جاتی ہیں۔
➏ دنیا عارضی ہے
اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے:
وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ
دنیا کی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے۔
اس دنیا کے تعلقات، خواہشات اور لذتیں سب عارضی ہیں۔ ایک مومن کی نگاہ صرف دنیا پر نہیں بلکہ آخرت پر بھی ہوتی ہے۔
➐ دل بدلتے رہتے ہیں
بعض اوقات انسان کسی کو اپنی زندگی کا سب سے اہم فرد سمجھنے لگتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ وہی تعلق ختم ہوجاتا ہے۔
دل اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ وہ جس طرح چاہے انہیں پھیر دے۔
اسی لیے عاقل انسان اپنی زندگی کے بڑے فیصلے صرف جذبات کی بنیاد پر نہیں کرتا بلکہ دین، کردار اور تقویٰ کو معیار بناتا ہے۔
➑ لا یعنی امور سے بچنا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه
انسان کے اسلام کی خوبی میں سے ہے کہ وہ فضول اور بے فائدہ چیزوں کو چھوڑ دے۔
وہ تعلقات، گفتگوئیں اور مصروفیات جو نہ دنیا میں فائدہ دیں اور نہ آخرت میں، بلکہ نقصان کا سبب بنیں، ایک مومن کو ان سے بچنا چاہیے۔
➒ نامحرم کے ساتھ خلوت سے بچنا
شریعت نے مرد اور عورت کی تنہائی سے منع فرمایا ہے۔
آج کے دور میں خلوت صرف ایک کمرے میں اکٹھے بیٹھنے کا نام نہیں۔ گھنٹوں پرائیویٹ چیٹس، خفیہ کالز اور پوشیدہ آن لائن تعلقات بھی اسی دروازے کی مختلف صورتیں ہیں۔
سوچیے!
اگر آپ اپنے کمرے میں کسی نامحرم کو تنہا داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گی تو اپنے دل، جذبات اور نجی گفتگوؤں تک بلا ضرورت رسائی کیوں دیں گی؟
➓ حلال میں ہی سکون ہے
کتنے ہی لوگ حرام تعلقات میں جذباتی سکون تلاش کرتے ہیں، لیکن آخرکار بے چینی، ندامت اور ٹوٹ پھوٹ ان کا مقدر بن جاتی ہے۔
سچا سکون اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ہے، نہ کہ اس کی نافرمانی میں۔
اس لیے ہمیشہ حلال طلب کیجیے:
اللهم اكفنا بحلالك عن حرامك وأغننا بفضلك عمن سواك
اے اللہ! اپنے حلال کے ذریعے ہمیں حرام سے بچا لے اور اپنے فضل کے ذریعے ہمیں اپنے سوا ہر ایک سے بے نیاز کر دے۔
⓫ اگر کسی کو پسند کر بیٹھیں تو کیا کریں؟
بعض اوقات کسی شخص کے بارے میں پسندیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ بذاتِ خود گناہ نہیں، کیونکہ دل کے بعض احساسات انسان کے اختیار میں نہیں ہوتے۔
البتہ ان احساسات کو پروان چڑھانا، خفیہ گفتگوؤں میں تبدیل کرنا، تعلقات قائم کرنا اور جذباتی وابستگی پیدا کرنا انسان کے اختیار میں ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں بہت سے لوگ آزمائش کا شکار ہوجاتے ہیں۔
اگر واقعی کوئی شخص آپ کو مناسب محسوس ہوتا ہے تو اس احساس کو چھپے تعلق میں تبدیل کرنے کے بجائے اپنے والدین یا ولی کو اعتماد میں لیجیے۔
اگر وہ شخص واقعی آپ کے لیے موزوں ہوگا تو شرعی طریقے سے بات آگے بڑھ سکتی ہے، اور اگر موزوں نہیں ہوگا تو ابتدا ہی میں دل کو مزید آزمائش سے بچایا جاسکے گا۔
⓬ ہر پسندیدہ شخص، اچھا شریکِ حیات نہیں ہوتا
یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ ہر وہ شخص جو آپ کو خاص محسوس کروائے، آپ کی تعریف کرے، آپ کو توجہ دے، آپ کے دکھ سنے یا آپ کو یہ احساس دلائے کہ وہ آپ کو سب سے زیادہ سمجھتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ آپ کے لیے اچھا شریکِ حیات بھی ہو۔
بعض لوگ تعلقات بنانے میں بہت اچھے ہوتے ہیں، لیکن نباہ کرنے میں نہیں۔
بعض لوگ گفتگو میں بہت متاثر کن ہوتے ہیں، لیکن کردار میں نہیں۔
اور بعض لوگ محبت کے دعوے تو بہت کرتے ہیں، مگر ذمہ داری اٹھانے کے وقت غائب ہوجاتے ہیں۔
اسی لیے اسلام نے ہمیں صرف جذبات کے سہارے فیصلے کرنے کے بجائے دین، کردار، امانت داری اور اہلِ خانہ کی رائے کو بھی اہمیت دینے کی تعلیم دی ہے۔
⓭ نکاح صرف دو افراد کا نہیں
نکاح صرف دو افراد کا نہیں بلکہ دو خاندانوں کا بندھن بھی ہوتا ہے۔
اسی لیے شریعت نے ولی کو اس عمل کا اہم حصہ بنایا ہے تاکہ جذبات کے ساتھ ساتھ حکمت، تجربہ، خیرخواہی اور دور اندیشی بھی شامل رہے۔
بسا اوقات ایک نوجوان لڑکی یا لڑکا کسی شخصیت کے ظاہری پہلوؤں سے متاثر ہوجاتا ہے، جبکہ والدین اور بزرگ ان چیزوں کو بھی دیکھ رہے ہوتے ہیں جو ایک کامیاب ازدواجی زندگی کے لیے ضروری ہیں۔
⓮ نکاح کا راستہ عزت والا راستہ ہے
ایک باوقار اور سنجیدہ مرد جب نکاح کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس راستے کو اختیار کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے؛ یعنی خاندان اور اولیاء کے ذریعے بات آگے بڑھاتا ہے۔
جو شخص ابتدا ہی میں اللہ تعالیٰ کی حدود کو نظر انداز کرے، خفیہ تعلقات قائم کرے اور ناجائز راستوں سے دلوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرے، اس کے بارے میں انسان کو محتاط رہنا چاہیے۔کیونکہ جس بنیاد میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی شامل ہو، اس سے خیر و برکت کی امید کم ہی کی جاسکتی ہے۔
بیٹیاں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہیں۔
اور امانت ہمیشہ اہل اور امین لوگوں کے سپرد کی جاتی ہے۔
⓯ استخارہ، دعا اور مشورہ
نکاح صرف دل کا فیصلہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرنے کا معاملہ بھی ہے۔
اس لیے دعا، استخارہ اور نیک و مخلص لوگوں سے مشورہ انسان کو بہت سی غلطیوں سے بچا سکتا ہے۔
بعض اوقات جو چیز ہمیں بہت اچھی لگ رہی ہوتی ہے، اس میں ہمارے لیے خیر نہیں ہوتی، اور بعض اوقات جس چیز کو ہم پسند نہیں کررہے ہوتے، اللہ تعالیٰ اسی میں ہمارے لیے برکت اور بھلائی رکھ دیتا ہے۔
⓰ اگر والدین سے اختلاف ہو تو؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ والدین اور اولیاء انسان ہیں، معصوم نہیں۔ ان سے بھی غلطی ہوسکتی ہے۔
لیکن چند غیر معمولی مثالوں کی بنیاد پر والدین اور اولیاء کے پورے نظام کو رد کردینا بھی درست نہیں۔
عمومی طور پر والدین اپنی اولاد کے سب سے بڑے خیرخواہ ہوتے ہیں اور ان کی خوشی، عزت اور حفاظت چاہتے ہیں۔
اگر کسی معاملے میں واقعی ناانصافی، غیر شرعی جبر یا واضح غلطی محسوس ہو تو اہلِ علم، خاندان کے سمجھدار افراد اور خیرخواہ لوگوں سے مشورہ لیا جاسکتا ہے۔
لیکن عام حالات میں اولیاء کی رہنمائی انسان کو بہت سی غلطیوں اور پچھتاووں سے بچا لیتی ہے۔
⓱ نکاح کے معاملے میں اپنے اولیاء کی رہنمائی سے فائدہ اٹھائیے
نکاح زندگی کے اہم ترین فیصلوں میں سے ایک ہے، اس لیے اس معاملے میں صرف اپنی رائے کو عقلِ کل نہ سمجھیے۔
اللہ تعالیٰ نے والدین اور اولیاء کو ہماری حفاظت، خیرخواہی اور رہنمائی کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ وہ زندگی کے بہت سے تجربات رکھتے ہیں، اس لیے بعض اوقات وہ وہ چیزیں دیکھ لیتے ہیں جو ہم اپنی پسندیدگی، جذبات یا محدود تجربے کی وجہ سے نہیں دیکھ پاتے۔
خصوصاً نکاح کے معاملات میں انسان بعض اوقات جذبات سے اتنا متاثر ہوجاتا ہے کہ حقیقت اور تصور کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جو چیز ایک وقت میں زندگی اور موت کا مسئلہ محسوس ہوتی ہے، چند سال بعد اسی کے بارے میں انسان سوچتا ہے کہ الحمد للہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بچا لیا۔
اسی لیے نکاح جیسے مقدس بندھن کے لیے اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کا خیال رکھیے اور معاملات کو حتی الامکان اپنے ولی اور خاندان کے ذریعے آگے بڑھائیے۔
اور سچ بتائیے۔۔۔
کتنی خوبصورت بات ہے کہ آپ عزت، وقار اور اطمینان کے ساتھ اپنے گھر میں موجود ہوں، اور آپ کے والدین اور اولیاء آپ کے لیے بہترین شریکِ حیات کی تلاش میں کوشاں ہوں۔
آپ کو اپنے ہونے والے شریکِ حیات میں کن خوبیوں کی خواہش ہے، آپ کن صفات کو ترجیح دیتی ہیں، یہ اپنے والدین یا ولی کو بتانے میں کوئی حرج نہیں۔ بلکہ یہ آپ کا حق ہے کہ آپ اپنی جائز ترجیحات بیان کریں تاکہ تلاش اسی کے مطابق کی جاسکے۔
لیکن اس سارے سفر میں اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود، حیا، وقار اور شرعی آداب کا خیال رکھیے۔
اور یاد رکھیے:
جس محبت کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے چھوڑ دیا جائے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس سے بہتر عطا فرمانے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
وَمَن يَتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ ؕ وَمَنۡ يَّتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسۡبُهٗ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمۡرِهٖ ؕ قَدۡ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَىۡءٍ قَدۡرًا
اور جو اللہ سے ڈرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا فرما دے گا ، اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا اور جو کوئی اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اسے کافی ہے، بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کرنے والا ہے، یقینا اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کیا ہے۔ (سورة الطلاق)
پس اپنی خواہشات سے زیادہ اپنے رب پر بھروسا کیجیے، کیونکہ وہ آپ کے دل کی کیفیت بھی جانتا ہے اور آپ کے مستقبل کی حقیقت بھی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی حدود کی حفاظت کرنے، حلال راستوں کو اختیار کرنے اور ایسے فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے جن میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہو۔
آمین۔
والسلام
آمنہ چاہل
(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)

No comments:
Post a Comment