Wednesday, 10 June 2026

علم اور دعوت… مگر کس قیمت پر؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


علم حاصل کرنا یقینا ایک عبادت ہے۔۔۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے انسان اپنے رب کو پہچانتا ہے۔۔۔ اپنے آپ کو سنوارتا ہے۔۔۔اور دوسروں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنتا ہے۔۔۔ الحمدللہ۔۔۔


لیکن سوال یہ ہے کیا ہر وہ عمل جو بنیادی طور پر عبادت ہو۔۔۔ اپنا توازن کھو دینے کے بعد بھی عبادت ہی رہتا ہے۔۔۔؟


آج ہمارے معاشرے میں ایک خاموش مگر سنگین مسئلہ سر اٹھا رہا ہے۔۔۔جہاں علم کی پیاس میں مگن کچھ طالبات اس قدر مصروف ہو گئی ہیں کہ ان کی اپنی حقیقی زندگی کہیں پیچھے چھوٹ گئی ہے۔۔۔

ان کے لیے۔۔۔

گھر۔۔۔بس ایک ذمہ داری بن جاتا ہے۔۔۔

خاوند۔۔۔ توجہ کا محتاج رہتا ہے۔۔۔

بچے۔۔۔ ماں کی موجودگی کے باوجود اس کی توجہ سے محروم ہو جاتے ہیں۔۔۔۔


 کچھ تلخ حقائق:

اگرچہ اس حوالے سے میں ان گنت مثالیں جانتی ہوں۔ البتہ اختصار کے پیش نظر چند ایک ذکر کیے دیتی ہوں۔۔۔ 

شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔۔۔ 


 🔹 ہر وقت حصول علم میں مصروف ایک بہن۔۔۔

یہ ایک ایسی بہن ہیں کتاب ان کے ہاتھ سے چھوٹتی ہی نہیں۔۔۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ پڑھنا۔۔۔ سننا۔۔۔ نوٹس بنانا۔۔۔ یہی ان کی دنیا ہے۔۔۔۔

شروع شروع میں یہ شوق تھا۔۔ پھر عادت بن گیا۔۔۔ پھر مصروفیت۔۔۔ اور اب ایک ایسی کیفیت کہ ذہن ہمیشہ بھرا ہوا رہتا ہے۔۔۔۔


خاوند بات کرے تو وہ سن تو لیتی ہیں۔۔۔ مگر دل حاضر نہیں ہوتا۔۔۔

خاوند کی خوشی۔۔۔ اس کی تھکن۔۔۔اس کی باتیں۔۔۔ بیوی تک *"پہنچتی"* ہی نہیں۔۔۔


وہ خود بھی خاوند کے حوالے سے کچھ محسوس نہیں کرتیں۔۔۔کہ دماغ ہر وقت بھرا رہتا ہے اور اس میں کچھ محسوس کرنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔۔۔ 

اور  آہستہ آہستہ ان کے درمیان ایک جذباتی فاصلے نے جنم لے لیا ہے۔۔۔


سوال یہ نہیں کہ وہ غلط ہیں۔۔۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ وہی توازن ہے جو دین ہمیں سکھاتا ہے؟

میری بہنو۔۔۔ کیا یہ ابلیس کی تلبیس نہیں کہ تمہیں علم کے حصول میں اس قدر مصروف کردیا کہ وہ خاوند جو تمہیں اپنی زندگی میں سکون بنا کر لایا تمہیں اس کے سکون کا سوچنے کی فرصت ہی نہیں۔۔۔ وہ مودت و رحمت جس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے وہ کب پیدا ہوگی جب تمہارا دل و دماغ ہی اس قدر مصروف ہوگا؟ 


 🔹 علم کے حلقات میں مصروف بہن۔۔۔

ایک اور بہن۔۔۔ جو کہ علم کے حلقات، دروس، کلاسز ۔۔۔ ہر وقت کسی نہ کسی علمی مصروفیت میں مگن ہیں۔۔۔ 

اور وہ فکر مند بھی ہیں۔۔۔ بہت پریشان ہیں کہ ان کے بچے کارٹونز، موویز کے عادی ہو رہے ہیں۔۔۔ ان کے اخلاق بدل بگڑ رہے ہیں۔۔۔ بچوں میں دین سے دوری محسوس ہو رہی ہے۔۔۔


سوال یہ ہے کہ۔۔۔ 

 *ان بچوں کے پاس ماں کب ہوتی ہے۔۔۔؟* 

وہ ماں جو ان کے ساتھ بیٹھے۔۔۔

ان سے بات کرے۔۔۔

ان کی دنیا سمجھے۔۔۔

ان کے دل میں دین بٹھائے۔۔۔


 *اگر ماں خود ہی ہر وقت مصروف ہو۔۔۔تو بچوں کی تربیت کون کرے گا؟* 


⚠️ ایک اور پہلو۔۔۔ جس پر بات نہیں کی جاتی۔۔۔ 

یہ کہ بہت سی بہنیں علم کے اتنے مراحل طے کر لیتی ہیں۔۔۔ کہ انہیں اپنا ہی خاوند *"چھوٹا"* محسوس ہونے لگتا ہے۔۔۔

باتوں میں۔۔۔ انداز میں۔۔۔ رویے میں ایک برتری آ جاتی ہے۔۔۔۔

اور یہی وہ دراڑ ہے۔۔۔ جہاں سے کئی گھروں کی بنیادیں ہلنا شروع ہو جاتی ہیں۔۔۔


❗ *اسی طرح کچھ بہنوں کے ذہن میں یہ تصور بیٹھ جاتا ہے کہ زندگی کی اصل "دعوت و تبلیغ" ہے۔۔۔*  اور گھر، خاوند اور بچے سب secondary ہیں۔۔۔


پھر جب ان سے گھرداری کا سوال ہوتا ہے۔۔۔ تو ان کا دل اسے قبول نہیں کرتا۔۔۔ اور پھر یہی وہ مقام ہوتا ہے۔۔۔ جہاں گھر ٹوٹنے کی بنیاد پڑتی ہے۔۔۔ 


✨ میری بہنو۔۔۔ ایک لمحہ رک کر یہ ضرور سوچیں۔۔۔

 *آپ پر جو فرائض ہیں۔۔۔* ان کا علم حاصل کرنا سب سے پہلے ضروری ہے۔۔۔۔ وہ علم جو آپ کی فرض عبادات، آپ کے حقوق، آپ کی ذمہ داریوں کا ادراک کروائے۔۔۔ اور عمل کے لیے رہنمائی مہیا کرے۔۔۔ 


⚠️ لیکن اگر ہم فروعی مباحث میں اس قدر الجھ جائیں۔۔۔ کہ اپنے ہی گھر، اپنے خاوند، اور اپنے بچوں کو نظر انداز کرنے لگیں۔۔۔ *تو کیا ہم واقعی ترجیحات کو درست جگہ پر رکھ پا رہی ہیں؟* 


یاد رکھیے۔۔۔ 

انہی حقوق کے بارے میں ہم سے سوال ہونا ہے۔۔۔ اور انہی رشتوں کے بارے میں ہم نے اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دینا ہے۔۔۔

⁉️ خود سے یہ سوال بھی ضرور کجیے:

کیا مجھے گھرداری آتی ہے۔۔۔؟

کیا میں نے یہ سیکھا کہ خاوند کی دلجوئی کیسے کرنی ہے۔۔۔؟

کیا میں جانتی ہوں کہ بچوں کی پرورش کیسے کرنی ہے۔۔۔؟

ان کی تربیت کیسے کرنی ہے۔۔۔؟

ان کے دل میں دین کیسے بٹھانا ہے۔۔۔؟


اور یہ بھی سوچیں۔۔۔

آپ جائے نماز پر لمبا قیام کریں۔۔۔ اور آپ کا خاوند آپ کی توجہ کا محتاج ہو۔۔۔ آپ سارا سارا دن علمی مجالس و حلقات میں مصروف ہوں اور آپ کا گھر اور بچے آپ کی موجودگی کو ترسیں۔۔۔ 

کیا یہ رویہ واقعی درست ہے؟

کیا یہی وہ توازن ہے جو اسلام سکھاتا ہے۔۔۔؟


ہم اکثر بھول جاتی ہیں کہ:

دین صرف کتابوں میں ہی نہیں۔۔۔

دین برتن دھونے میں بھی ہے۔۔۔

بچوں کو گلے لگانے میں بھی ہے۔۔۔ 

خاوند کے ساتھ مسکرا کر بات کرنے اور اس کی دلجوئی میں بھی ہے۔۔۔


اگر ایک عورت علم حاصل کر رہی ہے۔۔۔ مگر اس کے اپنے گھر والے اس کے اخلاق، اس کی توجہ، اور اس کی موجودگی سے محروم ہیں۔۔۔ تو یہ لمحہ فکریہ ہے۔۔۔ 


سوال یہ ہے کہ۔۔۔

کیا ہم علم کے ذریعے اپنے معاملات کو سنوار رہی ہیں۔۔۔  یا صرف مصروف ہو رہی ہیں؟


یاد رکھیے۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہمیں توازن ہی سکھایا ہے۔۔۔۔

ایک حق ادا کرتے ہوئے دوسرے حق کو پامال کرنا۔۔۔ یا نوافل میں اس قدر مگن ہونا کہ فرائض چھوٹ جائیں۔۔۔ یہ کم از کم ہمارے دین کا طریقہ نہیں۔


آپ کے خاوند کا حق۔۔۔

آپ کے بچوں کا حق۔۔۔

اور آپ کے گھر کا حق۔۔۔

یہ سب بھی اتنے ہی مقدس ہیں جتنا علم حاصل کرنا یا دعوت و تبلیغ کرنا۔۔۔ بلکہ یہ آپ کے وہ فرائض ہیں جو باقی سب امور پر فوقیت رکھتے ہیں۔۔۔ 


پتہ ہے ہماری اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہم کتنا جانتی ہیں۔۔۔بلکہ یہ ہے کہ ہم جو جانتی ہیں۔۔۔ اسے اپنی زندگی میں کیسے نافذ کرتی ہیں۔۔۔


پس۔۔۔ 

اگر آپ طالبة العلم ہیں... تو اپنے علم کو اپنے گھر میں نافذ کرکے دکھائیے۔۔۔ اپنے اخلاق میں۔۔۔ اپنی نرمی میں۔۔۔اپنی موجودگی میں۔۔۔


کہیں ایسا نہ ہو۔۔۔

کہ روز قیامت ہم علم کے ڈھیر لے کر کھڑی ہوں۔۔۔ مگر وہ دل خالی ہوں جنہیں ہمیں سنوارنا تھا۔۔۔ 💔


کہیں ایسا نہ ہو۔۔۔

کہ ہمارے پاس دلائل تو بہت ہوں۔۔۔مگر ہمارے اپنے بچے دین سے خالی ہوں۔۔۔💔


کہیں ایسا نہ ہو۔۔۔ کہ دنیا ہمیں *"عالمہ"* کہے... مگر ہمارا اپنا گھر ہمارے علم کی گواہی نہ دے۔۔۔ 💔


یاد رکھیے۔۔۔ 

اللہ تعالیٰ ہم سے صرف اس علم کے بارے میں نہیں پوچھے گا جو ہم نے سیکھا۔۔۔ بلکہ ان نفوس کے بارے میں بھی پوچھے گا جو ہماری ذمہ داری تھے۔۔۔ 

تو کیا آپ اپنی ذمہ داری بخوبی نبھا رہی ہیں۔۔۔؟ 

بطور بیوی۔۔۔ بطور ماں۔۔۔؟

واللہ الموفق۔۔۔

اللہ تعالیٰ ہمیں فہم و اصلاح کی توفیق سے نوازے اور ہمیں اپنے معاملات میں توازن قائم کرنا سکھادے۔۔۔ آمین! 


والسلام 

 آمنہ چاہل

No comments:

Post a Comment

بڑھتے ہوئے جنسی جرائم: اسباب، احتیاط اور ہماری ذمہ داریاں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  بڑھتے ہوئے جنسی جرائم: اسباب، احتیاط اور ہماری ذمہ داریاں جب بھی کسی معصوم بچے یا بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر سا...