Wednesday, 10 June 2026

ہم ذمہ دار ہیں | (ڈیجیٹل دور، ہم اور ہمارے بچے)

 بسم الله الرحمن الرحيم 

وہ خوبصورت دن۔۔۔

بچپن میں ہمارے والدین اور دادا دادی کے پاس ہماری تربیت کے لیے خوب وقت ہوتا تھا، اور ہمارے پاس بھی انہیں سننے، سمجھنے اور ان کی باتوں پر عمل کرنے کا۔۔۔ الحمدلله 

مجھے یاد ہے، دوپہر کے وقت ہم دادی جان کے اردگرد جمع ہوجایا کرتے تھے اور وہ ہمیں مزے مزے کی کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔ یہ کہانیاں نہ صرف ہمیں اپنے کلچر اور روایات سے متعارف کرواتیں بلکہ ان اقدار کو ہمارے ذہنوں میں راسخ بھی کرتیں۔

رات کو دادا ابو کے گرد محفل سجتی۔ وہ ہمیں اخلاقی قصے، اسلاف کی بہادری کے واقعات اور اپنی زندگی کے دلچسپ تجربات سنایا کرتے۔ ہم بڑے شوق سے فرمائش کرتے کہ ہمیں پاکستان ہجرت کی داستان سنائیں، اور جب وہ سناتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے ہم بھی ان مشقتوں بھرے سفر میں ان کے ساتھ شامل ہوں۔ انہی داستانوں نے ہمارے دلوں میں وطنِ عزیز کی محبت راسخ کی اور اس عظیم نعمت پر رب العزت کا شکر کرنا سکھایا۔

پھر امی جان بھی تو قاعدہ لے کر ہمیں حروف اور الفاظ کی پہچان کروایا کرتی تھیں۔ ہماری لکھائی کو خوبصورت بنانے کے لیے نہ جانے کتنی تختیاں لکھوایا کرتیں۔ ہم بھی شوق شوق میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے، تختی لکھتے، اسے دھوتے اور پھر نئی تختی لکھنے بیٹھ جاتے۔ رفتہ رفتہ یہ ہماری پسندیدہ مشغولیت بن چکی تھی۔

صبح فجر کے بعد اور شام میں عصر کے بعد قاعدہ یا قرآن پڑھنے جانا کتنا خوبصورت لگتا تھا۔ کوشش ہوتی کہ ہم باقی بچوں سے پہلے پہنچ جائیں، صفیں بچھا لیں اور سب کے آنے سے پہلے اپنا سبق بھی تیار کرلیں۔

اور پھر مختلف دلچسپ کھیل بھی تو ہوتے تھے۔ یوں کہیے کہ سارا دن جسمانی طور پر متحرک رہتے اور ذہنی نشوونما کے لیے بھی مسلسل غذا ملتی رہتی۔

وقت بدل گیا یا ہم ۔۔۔؟

آج سوچتی ہوں کہ جدید ڈیجیٹل دور میں کہیں نہ کہیں بچوں کا بچپن ہماری نظروں کے سامنے بدلتا جا رہا ہے۔ اب نہ والدین کے پاس پہلے جیسا وقت ہے، نہ دادا دادی کے پاس اور نہ ہی بچوں کے پاس۔

نہ بزرگوں کی وہ کہانیاں باقی رہیں جو ثقافت، روایات اور اخلاقیات کی امین تھیں، نہ والدین کے ساتھ وہ نشستیں رہیں، نہ بچوں میں سیکھنے کا وہ ذوق و شوق باقی رہا اور نہ بڑوں میں سکھانے کا وہ جذبہ۔ گویا بہت کچھ اس تیز رفتار ڈیجیٹل دور کی نذر ہوچکا ہے۔

البتہ مسئلہ ٹیکنالوجی کا وجود نہیں، بلکہ اس کا غیر متوازن استعمال ہے۔ سہولتیں اپنی جگہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں، لیکن جب یہی سہولتیں ہمارے وقت، ہمارے تعلقات اور ہماری ذمہ داریوں پر غالب آنے لگیں تو ہمیں اپنے طرزِ زندگی پر نظرثانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

لمحہ فکریہ ہے۔۔۔کہ کیا واقعی اس دور نے ہمارے بچوں سے ان کا بچپن چھین لیا ہے، یا ہم نے خود ان کے ہاتھوں میں اسکرینیں دے کر ان سے وہ دنیا چھین لی ہے جس میں کہانیاں تھیں، کھیل تھے، بزرگوں کی صحبت تھی اور والدین کی توجہ تھی؟

صرف شکوہ کافی نہیں۔۔۔

اگر یہ رویہ درست نہیں، تو پھر ہم اپنے آپ کو اس ڈیجیٹل سیلاب سے کیسے بچائیں جو خاموشی سے ہمارا وقت، ہمارے رشتے اور ہمارے بچوں کی تربیت و اخلاقیات بہائے لیے جا رہا ہے؟

صرف شکوہ کرنے سے مسئلے حل نہیں ہوتے۔ اگر ہم واقعی اپنے بچوں کا بچپن، ان کی تربیت اور خاندانی رشتوں کی حرارت  کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں خود بھی کچھ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

بچوں کو مکمل طور پر ٹیکنالوجی سے دور کرنا نہ ممکن ہے اور نہ ہی ضروری، البتہ اس کا متوازن استعمال سکھانا ہماری ذمہ داری ہے۔

گھر کے کچھ رہنما اصول۔۔۔

گھر میں اسکرین کے استعمال کے لیے واضح اصول بنائے جائیں۔ کھانے کے اوقات، خاندانی نشستوں اور سونے سے کچھ دیر پہلے موبائل فون اور دیگر ڈیوائسز کو ایک طرف رکھ دینا ایک چھوٹی سی عادت ہے، لیکن اس کے اثرات بہت گہرے ہیں۔

ہفتے میں کچھ اوقات یا ایک دن ایسا بھی ہونا چاہیے جو "ڈیجیٹل فری" ہو، جہاں پورا خاندان ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے، باتیں کرے، کتابیں پڑھے، کھیل کھیلے یا کسی مشترکہ سرگرمی میں حصہ لے۔ یہی لمحات بچوں کی یادوں اور شخصیت کا حصہ بنتے ہیں۔

بچوں کے کمروں میں انفرادی طور پر موبائل یا ٹیبلٹ دینے کے بجائے، گھر کے کھلے ماحول میں نگرانی کے ساتھ ان کا استعمال زیادہ محفوظ اور مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

بچے نصیحت سے زیادہ مثال سے سیکھتے ہیں۔۔۔

بچوں کی تربیت صرف نصیحت سے نہیں بلکہ عملی مثال سے ہوتی ہے۔ اگر ہم خود ہر وقت موبائل فون میں مصروف رہیں گے تو بچوں سے مختلف رویے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟

اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچوں کی اسکرین کی عادت صرف بچوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ اکثر پورے گھر کا طرزِ زندگی ہی اس کی بنیاد بنتا ہے۔ اس لیے بچوں کی اصلاح سے پہلے ہمیں اپنے رویوں اور اپنی عادات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

سکرین کا وقت کم کیسے کریں۔۔۔؟

  • بچوں کے ہاتھ سے موبائل اچانک چھین لینا حل نہیں۔ اس سے ضد اور مزاحمت بڑھتی ہے۔ بہتر ہے کہ آہستہ آہستہ وقت کم کیا جائے اور ساتھ متبادل سرگرمیاں دی جائیں۔
  • کتابیں، کھیل، ڈرائنگ، باغبانی، دستکاری، مطالعہ اور بزرگوں کے ساتھ وقت۔۔۔ یہ سب مل کر بچے کی شخصیت کو متوازن بناتے ہیں۔
  • گھر کا ماحول اگر محبت، گفتگو اور دلچسپی سے بھرپور ہو تو اسکرین کی کشش خود بخود کم ہونے لگتی ہے۔
  • چھوٹے بچوں کو بہلانے، کھلانے یا خاموش کروانے کے لیے موبائل کو مستقل سہارا بنانا ایک خطرناک عادت ہے، کیونکہ یہ ان کے ذہن کو اسکرین پر انحصار سکھا دیتا ہے۔
  • چھوٹے بچوں کو موبائل دینے کی ضرورت ہی کیا ہے، جب گھر کے اندر ہی ان کے لیے اتنی محفوظ اور خوبصورت سرگرمیاں موجود ہو سکتی ہیں؟
  • بڑے بچوں کو اگر تعلیمی ضرورت کے لیے ڈیوائس دی بھی جائے تو اس پر مکمل چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہیے۔ وقت محدود ہو، نگرانی میں استعمال ہو، اور کمروں میں ڈیوائسز نہ دی جائیں۔ جہاں ممکن ہو، موبائل کے بجائے لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر کو ترجیح دی جائے تاکہ استعمال کھلے ماحول میں ہو۔
  • صرف اس بات کی نگرانی کافی نہیں کہ بچے کتنی دیر اسکرین استعمال کر رہے ہیں، بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں اور کس قسم کے خیالات اور رویوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔

ہمارے بچوں کو ہماری ضرورت ہے۔۔۔

حقیقت یہ ہے کہ بچوں کو موبائل سے زیادہ اپنے والدین کی محبت، توجہ اور قربت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بہت سے بچے اسکرینوں میں اس لیے نہیں کھو جاتے کہ انہیں موبائل بہت محبوب ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ تنہائی، بوریت یا توجہ کی کمی سے بچنے کے لیے وہاں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔

بچوں کو اسکرین سے دور کرنے کا بہترین طریقہ یہ نہیں کہ ان کے ہاتھوں سے موبائل چھین لیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ان کے دلوں میں گھر، خاندان اور حقیقی زندگی کی ایسی محبت پیدا کردی جائے کہ وہ خود اسکرینوں کی دنیا کے اسیر نہ بنیں۔

یاد رکھیے۔۔۔

 بچوں کی تربیت صرف انہیں بہترین سہولتیں فراہم کرنے کا نام نہیں، بلکہ انہیں خوبصورت یادیں، مضبوط اقدار اور متوازن زندگی کا شعور دینے کا عمل ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آج ہمارے بچوں کو ہماری مہنگی چیزوں سے زیادہ، ہمارے وقت، ہماری توجہ اور ہماری محبت کی ضرورت ہے۔

کیونکہ ہم ذمہ دار ہیں۔۔۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»

"تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔"

ذرا سوچیے ۔۔۔ کہ کل جب ہم سے ہماری امانتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا، تو کیا ہم یہ کہہ سکیں گے کہ ہم نے اپنی استطاعت بھر ان کی تربیت، ان کے اخلاق اور ان کے وقت کی حفاظت کی تھی؟

یقیناً اس سوال کا جواب بھی ہمیں ہی تلاش کرنا ہے۔۔۔!!!

کیونکہ تربیت صرف رزق پہنچانے کا نام نہیں، بلکہ نسلوں کو سنوارنے کا نام بھی ہے۔۔۔

 اور اس ڈیجیٹل دور میں ہمیں صرف اپنے بچوں کی انگلیاں نہیں، بلکہ ان کے دل بھی تھامنے ہیں۔۔۔

کیونکہ ہم ذمہ دار ہیں۔۔۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی امانتوں کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں اپنے بچوں کی بہترین تربیت، صحیح رہنمائی اور ان کے دلوں میں ایمان، اخلاق اور محبت بٹھانے کی صلاحیت عطا کرے۔ کہ جب کل ہم سے ہماری اس ذمہ داری کے بارے میں سوال ہو تو ہم اپنے رب کے حضور سرخرو ہوسکیں ۔آمین!

والسلام 

آمنہ چاہل 

(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)


2 comments:

بڑھتے ہوئے جنسی جرائم: اسباب، احتیاط اور ہماری ذمہ داریاں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  بڑھتے ہوئے جنسی جرائم: اسباب، احتیاط اور ہماری ذمہ داریاں جب بھی کسی معصوم بچے یا بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر سا...