Wednesday, 26 August 2026

علم بغیر عمل۔۔۔

 بسم الله الرحمن الرحيم 


بارك الله فيك ✨ 

ایک بات سمجھیے کہ تبدیلی overnight نہیں آتی۔۔۔ البتہ ہمیں سیکھے گئے علم پر عمل کرنا ہے۔۔۔ کہ یہ علم روزِ قیامت ہمارے حق میں حجت بنے ، ہمارے خلاف حجت نہ بنے۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے سوال تو کرنا ہے کہ جو علم سیکھا تھا اس پر عمل کتنا کیا۔۔۔

اگر عمل میں سستی آرہی ہے تو دیکھا جائے کہ زندگی میں جانے انجانے میں کوئی ایسے گناہ تو نہیں ہیں جو عمل کی توفیق میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔۔۔ ایسی صورت میں سچی توبہ کا اہتمام کرتے ہوئے کثرت سے استغفار کریں۔۔۔ 

کثرت سے تلاوت قرآن مجید بھی دلوں کی نرمی کا باعث بنتی ہے اور زندگی میں برکت و توفیق کے دروازے کھولتی ہے۔ 

اپنے آپ کو صالحین اور باعمل لوگوں کی صحبت میں رکھنا بھی عمل کرنے پر ابھارتا ہے کہ صحبت اثر رکھتی ہے۔ 

سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا۔۔۔ جہاں بے عملی نظر آرہی ہے ، توفیق نہیں مل رہی تو دعا میں ہاتھ اٹھا دیں۔۔۔ خاص طور پر تہجد کے اوقات میں اٹھ کر دعا مانگیں ، رو رو کے سجدوں میں مانگیں۔۔۔ آپ کی تڑپ کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نامراد نہیں رکھے گا۔ 

جہاں تک دوسرے سوال کی بات ہے۔۔۔ 

تو گھر میں رہتے ہوئے آپس میں اختلافات ہوسکتے ہیں۔ اختلافات کو نارمل سمجھ کر قبول کرنا سیکھیں کہ ہر بندے کا نقطہ نظر مختلف ہوتا ہے۔ ان کو اپنی انا کا مسئلہ بنائیں گے تو جھگڑے جنم لیں گے۔۔۔

 جب یہ سمجھ لیا کہ اگلے بندے کی سوچ مجھ سے مختلف ہے ، چیزوں کو دیکھنے کا انداز مختلف ہے تو جہاں اختلاف پیدا ہوا وہاں دوسرے کی رائے کا احترام کرتے ہوئے خاموش ہو جائیں۔۔۔ ضروری نہیں کہ آپ اپنی رائے سے دستبردار ہوں لیکن دوسرے کی رائے کو بھی رد نہ کریں ( عام گھریلو معاملات میں، جب تک بات شریعت کی حدود میں رہتی ہے)۔۔۔

اور دل میں یہ گنجائش بھی رکھیں کہ ضروری نہیں گھر کا ہر معاملہ آپ کی مرضی کے مطابق ہو۔ آپس میں مل جل کر رہنا ہے تو دل میں اتنی وسعت پیدا کریں کہ گھر کے دیگر افراد کی رائے کو اہمیت دیں ، گھر کوئی جنگی محاذ نہیں ہوتے اور نہ ہی گھر والے ہمارے دشمن ہوتے ہیں ( چاہے میکہ ہو یا سسرال ) تو کبھی اگلے بندے کی بات مان لی اور کبھی منوا لی۔۔۔

 جب آپ ماننے والی ہوں گی ، عاجزی و انکساری کا مظاہرہ کریں ، تکبر و نخوت سے دور رہیں گی، اپنے اقوال و افعال سے باقی گھر کے افراد کے لیے بھلائی کا اظہار کریں گی تو دوسروں کے دل خود بخود آپ کے لیے نرم ہوں گے ان شاءاللہ اور ان کو آپ کی ماننے میں دِقّت نہیں ہوگی۔ 

مزید یہ کہ دعا کو لازم پکڑیں۔۔۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کریں 

اللهمّ ألِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا وَ أصْلِحْ ذَاتَ بَينِنَا 

کہ اے اللہ! ہمارے دلوں میں باہمی الفت پیدا فرمادے اور ہمارے باہمی معاملات کی اصلاح فرمادے۔۔۔

بجائے اس کے کہ گھر کے افراد کو کوسیں یا بد دعائیں دیں ، خلوص دل سے دعا کیا کریں۔۔۔ ان شاءاللہ ضرور فایدہ ہوگا۔ 

اللہ تعالیٰ ہمیں علم نافع کے ساتھ ساتھ عمل صالح کی توفیق سے نوازے اور ہمیں رشتوں کو خلوص و محبت سے نبھانے کا ہنر و حکمت سکھادے۔۔۔ آمین! 

* آمنہ چاہل

Saturday, 22 August 2026

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" (حصہ چہارم | تیسرا "ک" : کیا کہنا ہے؟)

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 


اگر آپ نے صحیح شخص کا انتخاب بھی کر لیا۔۔

صحیح وقت کا انتظار بھی کر لیا۔۔۔

تب بھی ایک سوال باقی رہتا ہے:

آخر کہنا کیا ہے؟

کیونکہ ہر وہ بات جو ہمارے دل میں آئے، زبان پر آنا ضروری نہیں۔۔۔

اور ہر وہ بات جو سچ ہو، اسے بیان کرنا بھی ہر وقت ضروری نہیں۔۔۔

یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کی عقل، تقویٰ اور حکمت کا امتحان ہوتا ہے۔

بعض لوگ اپنی ہر بات کو اس جملے سے درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں:

"میں تو صرف سچ بولتا ہوں۔"

لیکن اسلام نے صرف سچ بولنے کی تعلیم نہیں دی، بلکہ بھلی بات بولنے کی تعلیم دی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے:

«"جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ  اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔"»

غور کیجیے۔۔۔

حدیث میں "سچی بات" نہیں فرمایا، بلکہ "اچھی بات" فرمایا گیا ہے۔

کیونکہ بعض اوقات کوئی بات حقیقت تو ہوتی ہے، مگر نہ اس میں خیر ہوتی ہے، نہ فائدہ، نہ اصلاح۔

ہر سچ کہنا ضروری نہیں

فرض کیجیے۔۔۔

کوئی شخص اپنی کسی کمزوری پر پہلے ہی شرمندہ ہے۔

آپ کو بھی اس کی خامی معلوم ہے۔

کیا ہر بار اسے وہی خامی یاد دلانا ضروری ہے؟

یا کوئی بہن نئے نئے حجاب کی طرف آئی ہے، مگر اس میں ابھی بھی کچھ کوتاہیاں ہیں۔۔۔

کیا اس کی ہر غلطی فوراً گنوا دینا اصلاح ہے؟

یا پہلے اس کے اچھے قدم کی حوصلہ افزائی کرنا زیادہ حکمت ہے؟

سچ کا مقصد انسان کو گرانا نہیں، بلکہ اٹھانا ہونا چاہیے۔۔۔

کیا میری بات فائدہ دے گی؟

بولنے سے پہلے خود سے ایک سوال پوچھیے:

"جو میں کہنے جا رہا ہوں، اس سے کیا حاصل ہوگا؟"

اگر اس سے کسی کی اصلاح ہوگی، کسی کا حوصلہ بڑھے گا، کوئی غلطی رک جائے گی یا کوئی حق واضح ہوگا، تو یہ گفتگو اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے۔

لیکن اگر اس کا نتیجہ صرف دل آزاری، شرمندگی، فضول بحث یا نفرت ہے، تو خاموشی زیادہ قیمتی ہو سکتی ہے۔

ہر بات جو کہی جا سکتی ہے، ضروری نہیں کہ کہی بھی جائے۔۔۔

طنز، طعنہ اور تحقیر۔۔۔ یہ بھی گفتگو ہے

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے، اس لیے ان کی زبان محفوظ ہے۔

حالانکہ زبان صرف جھوٹ سے خراب نہیں ہوتی۔

طنز، تمسخر، القاب سے پکارنا، دوسروں کو نیچا دکھانا، ہر وقت تنقید کرنا، بات بات پر عیب نکالنا، یہ سب بھی گفتگو ہی کی صورتیں ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجرات میں ان تمام چیزوں سے منع فرمایا، کیونکہ یہ دلوں میں نفرت پیدا کرتی ہیں اور بھائی چارے کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

ایک مؤمن کی زبان دوسروں کو زخمی کرنے کے لیے نہیں، بلکہ خیر پہنچانے کے لیے ہوتی ہے۔

کیا میں مسئلہ بیان کر رہا ہوں یا شخصیت پر حملہ؟

یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔

کسی سے کہنا:

"یہ کام درست نہیں ہوا۔"

اور یہ کہنا:

"تم سے کبھی کوئی کام درست ہو ہی نہیں سکتا۔"

دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

پہلے جملے میں اصلاح ہے۔

دوسرے میں تحقیر۔۔۔

اسی طرح یہ کہنا:

"مجھے اس بات سے تکلیف ہوئی۔"

اور یہ کہنا:

"تم ہمیشہ ایسے ہی ہوتے ہو۔"

یہ بھی دو مختلف انداز ہیں۔

حکمت یہ ہے کہ ہم مسئلے پر بات کریں، انسان کی شخصیت کو نشانہ نہ بنائیں۔

مثبت الفاظ بھی صدقہ ہیں

ہم اکثر سوچتے ہیں کہ اچھی گفتگو صرف نصیحت کا نام ہے۔

حالانکہ کبھی ایک تعریف، ایک دعا، ایک شکریہ، ایک حوصلہ افزا جملہ، یا ایک سچا اعتراف بھی کسی کے لیے زندگی بدل دینے والا ثابت ہو سکتا ہے۔

کتنے لوگ ایسے ہیں جنہیں صرف اس لیے آگے بڑھنے کا حوصلہ ملا کیونکہ کسی نے ان سے کہا:

"اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔"

"آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے۔"

"مجھے آپ پر فخر ہے۔"

یہ بھی حسنِ گفتگو کا حصہ ہے۔

ہم غلطیوں کی نشاندہی میں تو جلدی کرتے ہیں، مگر خوبیوں کی تعریف میں اکثر کنجوسی کر جاتے ہیں۔

خود سے پوچھیے۔۔۔

بولنے سے پہلے صرف ایک لمحہ رک کر خود سے پوچھیں:

  1.  کیا یہ بات حق پر مبنی ہے؟
  2. کیا اس میں خیر ہے؟
  3. کیا یہ فائدہ پہنچائے گی؟
  4. کیا اس سے اصلاح ہوگی یا صرف دل دکھے گا؟
  5.  اگر یہی الفاظ مجھے کہے جائیں تو کیا مجھے اچھے لگیں گے؟

یہ چند سوال ہماری بہت سی غیر ضروری گفتگو کو روک سکتے ہیں۔

یاد رکھیے۔۔۔

ہر وہ بات جو زبان پر آ جائے، اسے کہہ دینا آزادی نہیں، بلکہ بے احتیاطی بھی ہو سکتی ہے۔

دانائی یہ نہیں کہ انسان کے پاس  کہنے کے لیے  بہت کچھ ہو۔

دانائی یہ ہے کہ وہ جانتا ہو کہ ان میں سے کیا کہنا ہے، اور کیا اپنے دل ہی میں رہنے دینا ہے۔

اسی لیے حکمتِ گفتگو کا تیسرا اصول ہے:

بولنے سے پہلے صرف یہ نہ سوچیے کہ "میں بول سکتا ہوں"، بلکہ یہ بھی سوچیے کہ "جو میں بولنے جا رہا ہوں، کیا واقعی وہی بات کہنی چاہیے؟"

والسلام 

آمنہ چاہل 

(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)

رشتوں میں وسعتِ قلبی

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

چند دن پہلے ایک بہن کے سٹیٹس پر دیکھا، لکھا ہوا تھا:

 *"اس دن کا انتظار ہے جب میرا بیٹا بڑا ہو جائے اور کہے: ماما! آپ پریشان نہ ہوں، میں ہوں نا۔۔۔"* 🤍

پھر چند دن بعد ایک دوسری بہن کا میسج ملا۔ کہنے لگیں:

 *"ہم الگ رہتے ہیں، پھر بھی میرے خاوند گھر کے اخراجات کے لیے اپنی والدہ کو رقم بھیجتے ہیں۔۔۔ اور میری ساس یہ بھی چاہتی ہیں کہ میرے خاوند اپنی بہن کی شادی کے سلسلے میں بھی کچھ نہ کچھ خرچ کریں۔ مجھے یہ بات تکلیف دیتی ہے، جبکہ ہماری اپنی بھی ضروریات ہیں، اور میرے سسر میری ساس اور اپنی بیٹی کی ضروریات پوری کرنے پر قادر بھی ہیں۔"* 

اب ذرا واپس پہلی مثال کی طرف چلیے۔۔۔

 *ماں کی آنکھوں کے خواب اور اپنے بیٹے سے وابستہ امیدوں کو محسوس کیجیے۔* 

ایک ماں جس بیٹے کے بارے میں سوچتی ہے کہ ایک دن وہ بڑا ہوگا، اس کا سہارا بنے گا، اس کے لیے کھڑا ہوگا۔۔۔

 *اب واپس دوسری مثال پر آئیے۔۔۔* 

بیٹا بڑا ہوچکا ہے، شادی شدہ ہے، اور بیوی نہیں چاہتی کہ وہ اپنی فیملی یعنی میاں بیوی کے علاوہ کسی اور پر خرچ کرے۔

بہنو! 🌸

رزق کی تنگی اور فراخی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اگر آپ کے خاوند اپنے والدین اور بہن بھائیوں پر خرچ کرتے ہیں تو اس پر جلنے کڑھنے کے بجائے *اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کریں کہ اس نے ان کی کمائی کو ایک اچھا مصرف عطا کیا ہے۔* 

والدین کی ضروریات پوری کرنے کا، ان کی خدمت میں خرچ کرنے کا، ان کی دعائیں سمیٹنے کا اور صلہ رحمی کا اس سے بہتر مصرف اور کیا ہوسکتا ہے؟

ہمارے معاشرے میں یہ سوچ آہستہ آہستہ رواج پکڑتی جارہی ہے کہ:

"سب کچھ میرا ہو۔۔۔"

"میرے علاوہ کسی کا حق نہ ہو۔۔۔"

"جو کچھ خاوند کمائے، وہ صرف میری اور میرے بچوں کی ملکیت ہو۔۔۔"

یہ سوچ ہرگز خیر والی نہیں ہے۔۔۔

نعمتیں صرف اپنے لیے جمع کرلینا ہی کامیابی نہیں؛ مل بانٹ کر کھانے سے برکت بھی آتی ہے، اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے سے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے

اور یاد رکھیے، جب ہم اپنے مال میں دوسروں کا حق تسلیم کرتے ہیں تو شیطان کو دلوں میں حسد، بدگمانی اور دوریاں پیدا کرنے کے مواقع بھی کم ہوجاتے ہیں۔

ہم تو خود اپنی جان و مال کے مطلق مالک نہیں ہیں، پھر خاوند کی کمائی اور اس کی تمام چیزوں پر اس طرح ملکیت جتانے کی کوشش کیوں کی جائے کہ اس کے دوسرے جائز رشتے دار محروم ہوجائیں؟

ہاں، یہ بالکل درست ہے کہ خاوند اپنی استطاعت کے مطابق معروف کے مطابق بیوی کی ضروریات پوری کرنے کا ذمہ دار ہے۔ لیکن اس حق کا مطلب یہ نہیں کہ بیوی خاوند کی پوری کمائی پر قبضہ کرلے اور اس کے والدین، بہن بھائیوں یا دیگر جائز مستحق رشتہ داروں کے حقوق کو نظر انداز کرنے لگے

 *اپنا حق لینا درست ہے، لیکن دوسروں کا حق روک لینا خیر نہیں ہے۔* 

ذرا اپنے کل کو بھی یاد رکھیے۔۔۔

آج آپ کا بیٹا آپ کے لیے سہارا بننے کا خواب ہے، کل وہ کسی اور کا شوہر بھی ہوگا۔

جس محبت، وسعتِ قلب اور تعاون کی آپ کل اپنے بیٹے سے امید رکھتی ہیں، آج انہی رشتوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے اپنے دل میں بھی وہی وسعت پیدا کیجیے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے احوال پر رحم فرمائے، ہمارے دلوں میں کشادگی پیدا فرمائے، ہمیں حسد اور حرص سے محفوظ رکھے، اور ہمیں اپنے مال کو صحیح جگہ خرچ کرنے اور انفاق فی سبیل اللہ و صلہ رحمی کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین 🤲🏻

* آمنہ چاہل 

Monday, 10 August 2026

کچھ تذکرہ ان کی حیا کا بھی لکھوں۔۔۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

اسلاف کی زندگیوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ صالحیت صرف انسان تک محدود نہیں رہتی۔۔۔ بلکہ اس کے اثرات اس کی آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔۔۔ اور اسی طرح فسق و فجور بھی صرف فرد تک نہیں رہتا، بلکہ نسلوں کو متاثر کرتا ہے۔۔۔

جب گھر میں بھائیوں کے ہاں بیٹیوں کی پیدائش ہوئی تو دل میں ایک عجیب سی احتیاط جاگی۔۔۔

کہ اب تک تو بھلائی کے راستے پر چلنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، مگر اب اس سے بھی بڑھ کر اہتمام کرنا ہوگا۔۔۔

تاکہ ہماری نسل کو ہمارے ایسے نقوش ملیں جو واقعی پیروی کے لائق ہوں۔۔۔ ان شاءاللہ! 

  چنانچہ ہر معاملے میں مزید احتیاط کو لازم پکڑ لیا۔۔۔۔

واللہ الموفق!

والدہ اکثر اپنی بڑی بہن، خالہ فاطمہ کا ذکر کیا کرتی ہیں۔۔۔جو ان کی شادی سے پہلے ہی وفات پاچکی تھیں۔۔۔وہ چھ بہنوں میں سب سے بڑی تھیں۔۔۔

نانا جان کے گھر کا ماحول ایسا تھا کہ کوئی غیر محرم رشتہ دار بھی گھر میں نہیں آتا تھا۔۔۔ نانی اماں اور بیٹیاں بھی بلا ضرورت کہیں آتی جاتی نہ تھیں۔۔۔ تمام خالائیں الحمدللہ پردے کی پابند اور صاحبِ تقویٰ تھیں۔۔۔

لیکن امی جان خاص طور پر خالہ فاطمہ کا ذکر کرتی ہیں۔۔۔

وہ نہایت باحیا، باپردہ اور عبادت گزار و متقی خاتون تھیں۔۔۔

انہوں نے گھر میں ایک چھوٹی سی مسجد بنائی تھی۔۔۔ جہاں وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو قرآنِ مجید پڑھاتیں، اور دینی کتابیں پڑھ کر سنایا کرتی تھیں۔۔۔

ان کی حیا کا ایک واقعہ بڑا عجیب اور دل کو چھو لینے والا ہے۔۔۔

جب انہوں نے گھر میں مسجد بنانے کا ارادہ کیا تو خواہش تھی کہ گاؤں کی جامع مسجد کی طرح بنائیں۔۔۔ مگر چونکہ گھر سے نکلتی نہ تھیں، اس لیے یہ طے کیا کہ رات کے وقت، اندھیرے میں چھت پر جا کر مسجد کے مینار کا نقشہ دیکھیں گی۔۔۔

رات کا انتخاب اس لیے کیا کہ کہیں دن کی روشنی میں کسی غیر محرم کی نظر نہ پڑ جائے۔۔۔

پھر رات کو چھت سے مسجد کا نقشہ دیکھتیں، اور دن میں اسے ذہن میں رکھ کر اپنے ہاتھوں سے مسجد تعمیر کرتیں۔۔۔

اللہ اکبر۔۔۔ 

یہ وہ حیا تھی۔۔۔ جو صرف سنی نہیں جاتی۔۔۔ بلکہ محسوس بھی ہوتی ہے۔۔۔ سبحان اللہ!

امی جان ایک اور واقعہ سناتی ہیں۔۔۔ کہ خالہ فاطمہ کی منگنی اپنے تایا زاد سے ہوئی تھی۔۔۔ مگر قریبی رشتہ ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے منگیتر کو دیکھا نہیں تھا۔۔۔

ایک دن دروازے کے قریب کھڑی تھیں کہ کسی نے دروازہ کھولا، تو تایا کے گھر کے باہر  ایک شخص تعمیراتی کام کر رہا تھا۔۔۔ 

انہوں نے چھوٹی بہنوں سے کہا: شاید تایا اپنے گھر میں تعمیر کا کام کروا رہے ان کے گھر کے باہر کوئی مزدور کام کر رہا ہے۔۔۔ 

بہنیں ہنس پڑیں اور کہنے لگیں: وہ مزدور نہیں، آپ کا منگیتر ہے۔۔۔ 

امی جان بتاتی ہیں کہ ہم سب بہنیں ہنسنے لگیں، اور خالہ فاطمہ حیا سے سرخ ہو گئیں۔۔۔ سبحان اللہ، کیسی پاکیزہ طبیعت تھی۔۔۔

اللہ تعالیٰ خالہ فاطمہ کی قبر کو جنت کے باغات میں سے ایک وسیع و عریض باغ بنائے، اور ہمیں بھی ایسی حیا اور تقویٰ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے… آمین!

امی جان اکثر مجھ سے کہتی ہیں: آمنہ، تم اپنی خالہ فاطمہ جیسی ہو۔۔۔  شکل و صورت میں بھی اور انداز و سوچ میں بھی۔۔۔ 

اور میں سوچتی ہوں۔۔۔ کہ ہم جیسے لوگ تو ان کے نقشِ پا کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔۔۔

البتہ یہ بات سن کر دل ضرور محتاط ہو جاتا ہے۔۔۔ 

کہ میری بھتیجیوں اور بھانجیوں کو میرے ذریعے کیسا اثر ملے گا۔۔۔؟

نانا جان نے اپنی بیٹیوں کی ایسی تربیت کی تھی کہ وہ جس گھر بھی بیاہی گئیں، اپنے گھروں کو تھامے رکھا۔۔۔ تنگی و پریشانی میں صبر و شکر کے ساتھ زندگی گزاری۔۔۔

اللھم بارک! سب کثیر الاولاد تھیں۔۔۔

اور ان کی حیا کا عالم یہ تھا۔۔۔

کہ چند سال پہلے ایک خالہ کی وفات ہوئی (اللهم اغفر لها وارحمها)۔۔۔ تو ان کے ہمسائے گواہی دے رہے تھے کہ ہم نے نہ کبھی ان کی آواز سنی۔۔۔ اور نہ ہی ان کے پاؤں کا ناخن تک دیکھا۔۔۔

تو میری بہنو۔۔۔!

یاد رکھیے۔۔۔ نسلیں صرف نصیحتوں سے نہیں۔۔۔ بلکہ نصیحت اور عمل کے امتزاج سے بنتی ہیں۔۔۔

آپ کی حیا۔۔۔ آپ کا تقوی۔۔۔ آپ کی آنے والی نسلوں کی پہچان بنے گا۔۔۔

اللہ تعالیٰ ہمیں فہم، اخلاص ، حیا، تقوی عطا فرمائے اور اپنی نسلوں کی درست تربیت کی توفیق کے ساتھ ان کے لیے بہترین اسوہ و نمونہ چھوڑنے کی توفیق سے بھی نوازے۔۔۔ آمین! 

* آمنہ چاہل

Tuesday, 4 August 2026

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" (حصہ سوم | دوسرا "ک" : کب کہنا ہے؟)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ایک ہی جملہ۔۔۔

ایک وقت پر محبت محسوس ہوتا ہے، اور دوسرے وقت پر طعنہ۔۔۔

ایک لمحے میں نصیحت بن جاتا ہے، اور دوسرے لمحے میں توہین۔۔۔

ایک موقع پر دل میں اتر جاتا ہے، اور دوسرے موقع پر دل کا دروازہ ہی بند کر دیتا ہے۔۔۔

فرق الفاظ میں نہیں ہوتا۔۔۔

فرق وقت میں ہوتا ہے۔۔۔

اسی لیے حکمت صرف یہ نہیں کہ انسان صحیح بات کرے، بلکہ یہ بھی ہے کہ صحیح وقت پر صحیح بات کرے۔

بدقسمتی سے ہم میں سے بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے ہی کوئی بات ذہن میں آئے، فوراً کہہ دینی چاہیے۔

ہم اسے صاف گوئی، بے باکی یا حق گوئی کا نام دیتے ہیں۔۔۔

حالانکہ اسلام نے ہمیں صرف حق بات کہنا نہیں سکھایا، بلکہ حکمت کے ساتھ حق بات کہنا بھی سکھایا ہے۔۔۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے:

«﴿ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ﴾»

«"اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دیجیے۔" (سورۃ النحل: 125)»

حکمت کا ایک اہم معنی یہ بھی ہے کہ ہر بات کو اس کے مناسب وقت پر رکھا جائے۔

ہر وقت نصیحت کا وقت نہیں ہوتا:

فرض کیجیے۔۔۔

ایک شخص ابھی ابھی اپنے کام سے تھکا ہارا گھر آیا ہے۔

ایک ماں پورا دن بچوں کی دیکھ بھال کے بعد ذہنی طور پر تھک چکی ہے۔

ایک طالب علم امتحان میں ناکامی کے بعد پہلے ہی مایوس بیٹھا ہے۔

ایسے وقت میں اگر ہم اصلاح کی نیت سے بھی گفتگو کریں تو بہت ممکن ہے کہ وہ بات دل تک پہنچنے کے بجائے بوجھ بن جائے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ نصیحت نہ کی جائے۔

بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دل کے دروازے کھلنے کا انتظار بھی حکمت کا حصہ ہے۔۔۔

غصے کے وقت گفتگو اکثر مسئلہ بڑھا دیتی ہے:

غصہ انسان سے وہ الفاظ بھی کہلوا دیتا ہے جن پر بعد میں برسوں پچھتاوا ہوتا ہے۔

اسی لیے جب جذبات قابو میں نہ ہوں تو گفتگو کو مؤخر کر دینا کمزوری نہیں، بلکہ پختگی کی علامت ہے۔

بعض اوقات ایک گھنٹے کی خاموشی، ایک سال کی معذرت سے زیادہ قیمتی ثابت ہوتی ہے۔۔۔

ہم اکثر کہتے ہیں:

"اس وقت نہ کہا تو  تو پھر کب کہنا ہے؟"

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سی باتیں اسی لیے ناکام ہوئیں کیونکہ اسی وقت کہہ دی گئیں۔

خوشی اور غم، دونوں کے اپنے آداب ہیں:

کسی کی خوشی کے موقع پر اس کی پرانی غلطیاں یاد دلانا مناسب نہیں۔

کسی کے غم کے وقت اس پر تنقید کرنا بھی حکمت نہیں۔

کسی کی کامیابی کے فوراً بعد اس کی خامیاں گنوانا، یا کسی کی ناکامی کے لمحے میں "میں نے پہلے ہی کہا تھا" کہنا، یہ ایسے جملے ہیں جو دل پر دیر تک نقش رہتے ہیں۔

ایک صاحبِ حکمت انسان جانتا ہے کہ بعض اوقات خاموش رہ کر ساتھ دینا، بول کر سمجھانے سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔

ہر سچ فوری نہیں بولا جاتا:

یہ ایک نہایت اہم اصول ہے۔

لوگ اکثر کہتے ہیں:

"میں تو منہ پر بات کرنے والا انسان ہوں۔"

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر سچی بات فوراً کہہ دینا بھی حکمت ہے؟

اگر کسی سچ کو چند گھنٹے، چند دن یا کسی بہتر موقع تک مؤخر کرنے سے دل بھی محفوظ رہ سکتا ہو اور اصلاح بھی ہو سکتی ہو، تو یہی زیادہ دانش مندی ہے۔

حق بات کہنا ضروری ہے، لیکن حق بات کو مؤثر انداز میں پہنچانا بھی ضروری ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی مبارک تعلیمات :

رسول اللہ ﷺ لوگوں کے حالات، ان کی کیفیت اور ان کی استعداد کو دیکھ کر گفتگو فرمایا کرتے تھے۔

آپ ﷺ ہر شخص سے ایک ہی انداز میں، ایک ہی مقدار میں اور ایک ہی وقت پر گفتگو نہیں فرماتے تھے۔

یہی وجہ تھی کہ آپ کی نصیحت دلوں میں اترتی تھی، بوجھ نہیں بنتی تھی۔۔۔

یہ ہمارے لیے بھی ایک اہم سبق ہے کہ مخاطب کی حالت کو سمجھے بغیر گفتگو کرنا ہمیشہ مفید نہیں ہوتا۔

خود سے پوچھیے۔۔۔

جب بھی آپ کسی اہم بات کا ارادہ کریں، ایک لمحے کے لیے رک جائیں اور خود سے پوچھیں:

  1.  کیا سامنے والا اس وقت سننے کی کیفیت میں ہے؟
  2.  کیا اس کے جذبات اس بات کو قبول کر سکیں گے؟
  3.  کیا اگر میں یہ بات کچھ دیر بعد کروں تو اس کا اثر زیادہ ہوگا؟
  4.  کیا میں یہ بات غصے میں کر رہا ہوں یا خیرخواہی میں؟
  5. اگر ان سوالوں کے جواب اطمینان بخش نہ ہوں تو شاید ابھی خاموش رہنا ہی زیادہ بہتر ہو۔

یاد رکھیے۔۔۔

حکمت صرف یہ نہیں کہ آپ کے پاس کہنے کے لیے صحیح الفاظ ہوں، بلکہ یہ بھی ہے کہ آپ کو صحیح وقت کا انتظار کرنا آتا ہو۔

کبھی کبھی ایک بے وقت نصیحت، نصیحت نہیں رہتی، الزام بن جاتی ہے۔۔۔

اور کبھی صحیح وقت پر کہے گئے چند نرم الفاظ، برسوں سے بند دل کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔۔۔

اسی لیے حکمتِ گفتگو کا دوسرا اصول ہے:

صرف یہ نہ سوچیے کہ "میں کیا کہنے جا رہا ہوں"، بلکہ یہ بھی سوچیے کہ "کیا ابھی وہ وقت ہے جب یہ بات کہی جانی چاہیے؟"

والسلام 

آمنہ چاہل 

(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)

In a world that constantly makes you feel small for choosing family life...

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  In a world that constantly makes you feel small for choosing family life, valuing your husband, and embracing your ...