Tuesday, 15 September 2026

In a world that constantly makes you feel small for choosing family life...

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

In a world that constantly makes you feel small for choosing family life, valuing your husband, and embracing your home, come back to your femininity, dear sisters. 🌷

Learn to be a good wife, a nurturing mother, a homemaker, and above all, a conscious educator and مربیہ for the next generation.

Do not be deceived by every modern slogan and every promise that tells you your home, your motherhood, and your family are somehow beneath you; or that fulfillment can only be found by walking away from the very responsibilities Allah has entrusted to you.

Your home is not a limitation...

Your motherhood is not a burden...

Being a wife is not a lesser role...

There is immense honour in building a peaceful home, nurturing a righteous family, and raising children who may become a source of Khair for the Ummah. 🤍

Do not allow a culture that constantly devalues homemaking to make you ashamed of a role that can carry tremendous purpose, dignity, and reward.

Know the value of your home. Know the honour of your responsibilities. And never let the world convince you that what Allah has entrusted to you is insignificant. 🌸

* Amina Chahal 

جب ماں مصروف ہوئی تو تربیت کس کے ہاتھ آئی؟

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

ماں کی برین واشنگ کی گئی، اس کے مقام و مرتبے کو کم کرکے دکھایا گیا۔۔۔ اور پھر اس کی بنیادی ذمہ داریوں سے غافل کرنے کے لیے نت نئے پراجیکٹس، مختلف ایجنڈے اور رنگ برنگے آئیڈیاز متعارف کروائے گئے۔

کبھی جاب کے نام پر۔۔۔ کبھی بزنس کے نام پر۔۔۔ کبھی تعلیم و کیریئر کے نام پر۔۔۔

غرض، مختلف عنوانات کے ذریعے عورت کو اس قدر مصروف کردیا گیا کہ وہ اپنے گھر اور اپنی اولاد کی تربیت کے لیے مطلوب وقت اور توجہ ہی نہ دے سکے۔۔۔!

اور اگر عورت گھر سے باہر نہ بھی نکلی تو سوشل میڈیا نے اسے گھر بیٹھے مصروف رکھنے کے نت نئے راستے پیدا کردیے۔۔۔ اسے انفلوئنسر بننے، ہر لمحہ شیئر کرنے۔۔۔دکھانے۔۔۔ اور ایک مصنوعی مصروف زندگی گزارنے میں اس قدر الجھا دیا گیا کہ اب عمومًا ماں کے پاس اپنی اولاد کے دلوں میں جھانکنے تک کا وقت نہیں رہتا نہ ضرورت محسوس ہوتی ہے۔۔۔

 سوال یہ ہے کہ *پھر ہمارے بچوں کی تربیت کون کررہا ہے؟* 

وہی کردار جو ہماری نسلوں کے ذہنوں میں مسلسل اتارے جا رہے ہیں۔۔۔

کارٹون کریکٹرز، سپر ہیروز، ویڈیو گیمز کے کردار، ٹک ٹاکرز اور فسق و فجور سے لتھڑے ایسے انفلوئنسرز جن کے افکار و کردار ہماری دینی اقدار سے متصادم ہیں۔۔۔! 

ہماری نسلوں میں بے دینی، فکری انتشار اور الحاد کا بڑھنا محض ایک اتفاق نہیں! 

ہمارے بچوں کے ذہنوں اور دلوں کی تشکیل مسلسل مختلف ذرائع سے ہورہی ہے۔۔۔ *یہ ایک فکری و نظریاتی چیلنج ہے،* اور ہم میں سے بہت سے لوگ اس کی گہرائی کو ابھی پوری طرح محسوس نہیں کر رہے۔

عزیز بہنو!

میں یہ بات کسی الزام یا ملامت کے طور پر نہیں، بلکہ بہت *دردِ دل کے ساتھ* آپ کے سامنے رکھ رہی ہوں۔

آپ کی زندگی کے عظیم ترین مقاصد میں سے سب سے پہلی ترجیح پہ جو مقصد ہونا چاہیے وہ ہے *آپ کی اپنی اولاد کی صالح تربیت۔۔۔* 

یہ دنیاوی آسائشیں، عیش و عشرت، شہرت اور چکاچوند آخر کب تک رہیں گی۔۔۔؟

آج ہمارے پاس وقت ہے۔۔۔ ہمارے بچے ہمارے پاس ہیں۔۔۔ ان کے دل ابھی تشکیل کے مرحلے میں ہیں۔۔۔ 

*آئیے، اپنی توجہ اپنی نسلوں کو سنوارنے پر مرکوز کریں۔* 

ایسی نسل تیار کریں جو ہمارے بعد بھی خیر کا ذریعہ بنے۔۔۔

جو قرآن سے جڑی ہو۔۔۔ 

سنت سے وابستہ ہو۔۔۔ 

اپنے رب کو پہچانتی ہو۔۔۔

اور اپنے دین پر ثابت قدم ہو۔۔۔

ان شاءاللہ✨

کیونکہ اگر ہم اپنی اولاد کی صحیح تربیت کر گئے، تو ان کی نیکی، ان کا علم، ان کے صالح اعمال اور ان کی دعائیں ہمارے لیے ہمارے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی صدقۂ جاریہ بن سکتی ہیں۔

اور امید ہے کہ یہی صالح نسلیں قیامت کے دن بھی ہمارے لیے عزت و وقار کا سبب بنیں گی، ان شاء اللہ🌸

والله الموفق🤲🏻

🖋️ آمنہ چاہل 

In a world that constantly makes you feel small for choosing family life...

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  In a world that constantly makes you feel small for choosing family life, valuing your husband, and embracing your ...