Thursday, 1 October 2026

عورتوں کا گھر سے باہر کام کرنا

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 


Let's talk about your question now...

We'll break it down in parts...

  Professional Lady...

 اسلام نے آپ کو جو حقوق دئیے ہیں ان میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ کو رزق کمانے کے لیے دھکے نہ کھانے پڑیں اور آپ سے جڑے مردوں یعنی باپ ، بھائی ، خاوند ، بیٹا وغیرہ کو اس بات کا پاپند بنایا ہے کہ وہ آپ کی مالی کفالت کریں اور ضروریات کا خیال رکھیں۔ 

 *اب آجاتے ہیں اس بات کی طرف کہ خواتین کو کمانے کے لیے گھر سے نکلنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟*

اکثر اوقات گھر کے مرد جن کے ذمے کفالت ہوتی ہے وہ اپنی زمہ داری پوری نہیں کرتے ، یا انہیں اسلامی تعلیمات کی پرواہ نہیں ہوتی۔۔۔ یا یوں بھی ہوسکتا کہ کوئی اور مجبوری ہو جیسے عورت کا کوئی کفیل موجود نہ ہو وغیرہ۔۔۔


 *اب اس کو بھی حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:*

کبھی یوں ہوتا ہے کہ گھر کے مرد اپنی پوری کوشش کررہے ہوتے ہیں لیکن خواتین کی ضروریات خواہشات کے زیرِ اثر اتنی بڑھ جاتی ہیں کہ وہ اس کم پر گزارا نہیں کرپاتیں، جو گھر کے مرد ان کو مہیا کرتے ہیں۔ تو اپنی ان خواہشات کی instant satisfaction کے لیے انہیں بھی مال کمانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے کی حاجت محسوس ہوتی ہے۔ ایسی خواتین كو میری نصیحت ہے کہ اپنی زندگی میں قناعت لائیے۔۔۔ اور گھروں میں عافیت پکڑئیے ، ہم دنیا میں جنت کی تیاری کے لیے آئے ہیں۔۔۔ دنیا کو جنت بنانے نہیں آئے ، تو اگر کوئی خواہش نہیں بھی پوری ہوتی تو کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے کہ تن ڈھانپنے کو کپڑا اور سر ڈھانپنے کو چھت میسر ہونا ہی اصل چیز ہے اور اپنے گھروں میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔۔۔

اچھا پھر کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ *گھر میں کوئی اور انتہائی ضروریات کو پورا کرنے والا نہیں ہوتا۔۔۔ اور مجبورا خواتین کو گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔۔۔* 

ایسی صورت میں دیکھا جائے کہ آپ کو ایسا کام میسر آجائے جہاں مردوں اور عورتوں کا اختلاط نہ ہو۔۔۔ زیادہ کمانے کے چکروں میں شریعت کی حدود کو کراس کرنے سے بچنا چاہیے۔۔۔ 

مکمل پردہ ، عورتوں اور مردوں کے اختلاط سے بچتے ہوئے حلال رزق کے لیے کوشش کرنے میں حرج نہیں ہے۔ 

اوپر بیان کردہ تفصیل سے یہ بات تو واضح ہوگئی ہوگی کہ مرد کولیگز ہونا کوئی خیر والی بات نہیں ہے، پھر سونے پہ سہاگا کہ وہ کام کی جگہ تک محدود نہیں ہیں بلکہ آپ کے فون کے ذریعے ان کو میسجز کی رسائی بھی حاصل ہے۔۔۔ ابھی آپ کو لگ رہا ہوگا کہ یہ بہت اچھا ہے ،اور آپ ان تک اچھی باتیں پہنچا رہی ہیں اور ان کی طرف سے یہ کہا جانا کہ آپ کی وجہ سے دین کی طرف آرہے ہیں۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہے جبکہ یہ ساری بنیاد ہی دین کے اصولوں کے منافی ہے۔۔۔ آپ کے کیس سے ملتے جلتے کئی ایک کیسز دیکھے ہیں، بہنیں آتی ہیں کاؤنسلنگ کے لیے بہت کچھ ہو جانے کے بعد۔۔۔ 

آپ کو یہی نصیحت ہے کہ اگر آپ کے لیے گھر سے باہر جاکے کمانا زندگی اور موت کا مسئلہ ہے یعنی آپ رزق کے لیے ہاتھ پیر نہیں ماریں گی تو بھوک سے مر جائیں گی، ایسی صورت میں کام کیجیے لیکن وہ جس میں شرعی حدود کی خلاف ورزی نہ ہو۔۔۔

انسان جس چیز کے لیے کوشش کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے وہ چیز آسان کردیتا ہے۔ تو آپ ایسے ذریعہ معاش کی کوشش کیجیے جس میں اللہ تعالیٰ کی حدود بھی پامال نہ ہوں اور آپ باعزت روزی بھی کما سکیں۔۔۔ کیونکہ رازق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے اور دعاؤں کے قبول کرنے والا بھی ہے تو کیوں نہ اس سے وہی مانگا جائے جو اس کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنے نہ کی اس کے غضب کو دعوت دے۔۔۔ 

اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو، آپ پر خیر ، عافیت اور برکت کے دروازے کھولے ، آپ کو فہمِ صحیح اور عمل صالح کی توفیق سے نوازے آمین 

بارک اللہ فیک ✨ 

والسلام 

آمنہ چاہل 

No comments:

Post a Comment

عورتوں کا گھر سے باہر کام کرنا

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  Let's talk about your question now... We'll break it down in parts...   Professional Lady.. .  اسلام نے آپ...