Saturday, 25 July 2026

ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

ڈیجیٹل دور میں مسلم والدین کے لیے ایک تربیتی سلسلہ

رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے:

«كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»

"تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔"

کبھی آپ نے جنگل میں شکار کا منظر دیکھا ہے؟

بھیڑیا اپنے شکار پر اچانک حملہ نہیں کرتا۔ وہ پہلے اسے تنہا کرتا ہے، اس کی کمزوری کو پہچانتا ہے، اس کا اعتماد حاصل کرتا ہے، پھر آہستہ آہستہ اسے اپنے شکنجے میں لے لیتا ہے۔

افسوس! آج ہمارے بچوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔۔۔

فرق صرف اتنا ہے کہ اب بھیڑیے جنگلوں میں نہیں، بلکہ موبائل فونز، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، گیمز، چیٹ رومز اور انٹرنیٹ کی بے شمار کھڑکیوں کے پیچھے چھپے بیٹھے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے بچے کو صرف ایک موبائل فون دیا ہے، لیکن حقیقت میں ہم نے اس کے ہاتھ میں پوری دنیا کا دروازہ کھول دیا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں خیر بھی ہے اور شر بھی، جہاں علم بھی ہے اور گمراہی بھی، جہاں فائدہ بھی ہے اور ایسے فتنے بھی جو خاموشی سے معصوم دلوں اور ناپختہ ذہنوں کو اپنا شکار بنا لیتے ہیں۔

اصل مسئلہ موبائل نہیں۔۔۔

اصل مسئلہ انٹرنیٹ نہیں۔۔۔

اصل مسئلہ ٹیکنالوجی بھی نہیں۔۔۔

اصل مسئلہ تربیت کے بغیر آزادی، نگرانی کے بغیر رسائی، اور رہنمائی کے بغیر ڈیجیٹل دنیا میں داخل ہونا ہے۔

ایک بچہ جو ابھی صحیح اور غلط میں فرق کرنا سیکھ ہی رہا ہو، وہ ہر چمکتی ہوئی چیز کو اچھا سمجھ سکتا ہے، ہر مسکراتے ہوئے چہرے کو مخلص، اور ہر دلکش دعوت کو بے ضرر۔ یہی معصومیت اسے سب سے زیادہ کمزور بناتی ہے۔

والدین اکثر اطمینان سے کہتے ہیں:

"ہمارا بچہ تو گھر میں ہی رہتا ہے۔"

لیکن ایک لمحے کے لیے خود سے پوچھیے۔۔۔

کیا وہ واقعی گھر میں رہتا ہے؟

جس بچے کی نگاہیں ہر روز دنیا بھر کے لوگوں، نظریات، تفریحات، خواہشات اور فتنوں کے درمیان سفر کرتی ہوں، کیا وہ صرف اپنے کمرے میں ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ آج بہت سے والدین اپنے بچوں کو گھر کے دروازے سے باہر جانے سے تو روک لیتے ہیں، مگر ان کے ہاتھ میں ایسا دروازہ تھما دیتے ہیں جس کے ذریعے پوری دنیا بلا اجازت ان کے کمرے میں داخل ہو جاتی ہے۔

یہ تحریری سلسلہ ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں، بلکہ بے احتیاطی کے خلاف ہے۔

ہم بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے کاٹنے کی دعوت نہیں دے رہے، بلکہ انہیں اس دنیا میں محفوظ رہنا سکھانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ آنے والا زمانہ انٹرنیٹ کے بغیر نہیں گزرے گا، لیکن ایمان، حیا، بصیرت اور مضبوط تربیت کے بغیر ضرور خطرناک ہو سکتا ہے۔

اسی لیے اس سلسلے میں ہم، ان شاء اللہ، ایک ایک کرکے ان تمام پہلوؤں پر گفتگو کریں گے جن سے ہر والدین کو واقف ہونا چاہیے۔

ہم جانیں گے کہ:

  1. ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟
  2. وہ بچوں تک کیسے پہنچتے ہیں؟
  3. وہ کن کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہیں؟
  4. کون سی علامات بتاتی ہیں کہ بچہ خطرے میں ہے؟
  5.  والدین اپنی اولاد کی دینی، اخلاقی، فکری اور نفسیاتی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں؟
  6.  اور ایسا گھر کیسے بنایا جائے جہاں بھیڑیوں کے لیے داخل ہونا آسان نہ ہو۔

یہ سلسلہ خوف پیدا کرنے کے لیے نہیں۔۔۔

بلکہ شعور بیدار کرنے کے لیے ہے۔

مایوسی پھیلانے کے لیے نہیں۔۔۔

بلکہ امید، تربیت اور ذمہ داری کا احساس جگانے کے لیے ہے۔

کیونکہ اولاد صرف ہماری ذمہ داری نہیں۔۔۔

بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سونپی گئی امانت بھی ہے۔

 لمحۂ فکریہ

"جب محافظ آنکھیں بند کر لیں، تو بھیڑیے راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔"

آج ایک لمحے کے لیے خود سے پوچھیے۔۔۔

کیا ہم اپنے بچوں کے محافظ بن کر جاگ رہے ہیں، یا صرف ان کے لیے سہولتیں مہیا کر رہے ہیں؟

 اگلی قسط میں ہم جانیں گے: 

"ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟"

ہم ان شاء اللہ ان چہروں سے پردہ اٹھائیں گے جو کبھی دوستی، کبھی تفریح، کبھی علم، اور کبھی آزادی کے نام پر ہماری نسلوں کو اپنا شکار بناتے ہیں۔

یا رب العالمین! ہمارے بیٹوں اور بیٹیوں کی اصلاح فرما، انہیں ہر ظاہر و پوشیدہ فتنے سے محفوظ رکھ، انہیں اپنے نیک بندوں میں شامل فرما، اور ہمیں ان کی بہترین تربیت کرنے اور اس امانت کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرما، جس طرح تو پسند کرتا ہے۔ آمین۔

والسلام 

آمنہ چاہل 

(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)

No comments:

Post a Comment

عورتوں کا گھر سے باہر کام کرنا

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  Let's talk about your question now... We'll break it down in parts...   Professional Lady.. .  اسلام نے آپ...